تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار اہم کارنامہ ،پی سی سی صدارت پر ریونت ریڈی کی تین سالہ میعاد مکمل

,

   

مختصر مدت میں صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ، ہائی کمان کی مکمل سرپرستی، چیالنجس کا کامیابی سے سامنا
حیدرآباد۔/7 جولائی، ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے عہدہ پر اے ریونت ریڈی کی تین سالہ میعاد آج مکمل ہوچکی ہے۔ تین سال قبل آج ہی کے دن ریونت ریڈی نے این اتم کمار ریڈی سے پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت کی ذمہ داری حاصل کی تھی۔ ریونت ریڈی نے تین سالہ میعاد کی تکمیل سے قبل نئے صدر کا انتخاب کرنے پارٹی ہائی کمان سے خواہش کی لیکن عہدہ کے خواہشمندوں کی کثرت کے نتیجہ میں ہائی کمان نے نئے صدر کے انتخاب کو کچھ وقت کیلئے ٹال دیا ہے۔ چیف منسٹر کے عہدہ پر ریڈی طبقہ کی نمائندگی کے باعث پردیش کانگریس کی صدارت پر بی سی یا کسی اور کمزور طبقات کے نمائندہ کو مقرر کئے جانے پر ہائی کمان غور کررہا ہے۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے پردیش کانگریس کی صدارت کی ذمہ داری اس وقت سنبھالی تھی جب تلنگانہ میں کانگریس کا موقف کمزور تھا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد 2014 اور پھر 2018 اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ مایوس کن رہا تھا۔ کانگریس ہائی کمان نے پارٹی قائدین کی مخالفتوں کی پرواہ کئے بغیر ریونت ریڈی کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پردیش کانگریس کی صدارت سونپ دی حالانکہ کانگریس پارٹی میں ان کی شمولیت کو بمشکل ایک سال ہوا تھا۔ نئے قائد کو پارٹی کی صدارت دیئے جانے کی مختلف گوشوں نے مخالفت کی تھی لیکن سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے دوراندیشی کے ساتھ ریونت ریڈی کے حق میں فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔ ریونت ریڈی نے 2019 لوک سبھا چناؤ میں ملکاجگری حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی اور انہوں نے7 جولائی 2021 کو صدر پردیش کانگریس کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے 2023 اسمبلی انتخابات کی مہم کا عملاً آغاز کردیا تھا۔ ریونت ریڈی نے پردیش کانگریس کے صدر کے عہدہ پر کئی داخلی اور خارجی چیلنجس کا دلیری سے سامنا کیا اور پارٹی کو دوبارہ برسراقتدار لاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ محض 2 سال کے عرصہ میں ریونت ریڈی نے تلنگانہ تشکیل دینے والی کانگریس کو اقتدار عطا کیا اور دوتہائی اکثریت کے ساتھ دس سال تک برسراقتدار رہنے والی بی آر ایس کو شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ ریونت ریڈی کی کامیابی میں ہائی کمان کی مکمل تائید کا اہم رول رہا۔ امیدواروں کے انتخاب سے لے کر انتخابی مہم کی حکمت عملی میں ہائی کمان نے ریونت ریڈی کی رائے کو ترجیح دی تھی۔ نومبر 2023 اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں 64 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ کانگریس کی تائید سے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ بھدرا چلم اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے۔ بی آر ایس کو 39 نشستوں پر اکتفاء کرنا پڑا۔ حکومت کی تشکیل 7 ڈسمبر کو عمل میں آئی اس کے ایک ماہ بعد لوک سبھا انتخابات کا شیڈول جاری ہوگیا جس کے نتیجہ میں ضابطہ اخلاق نے حکومت کی کارکردگی پر روک لگادی۔ ریونت ریڈی نے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو 17 میں 14 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے مہم کا آغاز کیا لیکن امیدواروں کے انتخاب میں بعض کوتاہیوں اور مقامی سطح پر کارکنوں کی ناراضگی کے سبب کانگریس محض 8 نشستوں تک محدود ہوگئی اور بی جے پی کو 8 نشستیں حاصل ہوئیں۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر کو چیلنج کیا تھا کہ وہ ایک نشست پر کامیابی حاصل کرکے دکھائیں۔ ان کا چیلنج پورا ہوا اور ان کی پیش قیاسی سے سیاسی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ریونت ریڈی نے پردیش کانگریس کمیٹی کی تشکیل میں پارٹی کے تمام گروپس اور سماج کے تمام طبقات کو موثر نمائندگی دی۔ ناراض قائدین کو منانے اور انہیں پارٹی سرگرمیوں میں شامل کرنے میں ریونت ریڈی کو کامیابی ملی۔ اب جبکہ ریونت ریڈی کی تین سالہ میعاد مکمل ہوچکی ہے پارٹی قائدین کا احساس ہے کہ مجالس مقامی کے انتخابات تک ریونت ریڈی کی صدارت برقرار رکھی جائے تاکہ حکومت اور پردیش کانگریس کمیٹی میں اختلاف رائے کی گنجائش نہ رہے۔ پردیش کانگریس کی صدارت کے اہم دعویداروں میں مہیش کمار گوڑ، مدھو یاشکی گوڑ، بلرام نائیک، سمپت کمار، ڈی انوسیا سیتکا اور دوسرے شامل ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کمان ریونت ریڈی کی میعاد کی تکمیل پر نئے صدر کے بارے میں کب تک فیصلہ کرے گا۔ واضح رہے کہ کانگریس ہائی کمان نے نئے صدر پردیش کانگریس کیلئے پارٹی کے مختلف گوشوں اور سینئر قائدین سے مشاورت کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ جلد ہی نئے صدر کے نام کا اعلان کیا جائے گا ۔1