تلنگانہ میں کانگریس کا موقف مستحکم، 50 نشستوں پر کامیابی ممکن

   

ہائی کمان کا سروے، ریونت ریڈی کی قیادت میں برسر اقتدار آنے کا یقین
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ریونت ریڈی کے پارٹی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کانگریس کے موقف میں بہتری آئی ہے۔ پارٹی میں اندرونی اختلافات اور رکن اسمبلی جگاریڈی کی جانب سے استعفے کی دھمکیوں کے باوجود ٹی آر ایس کے خلاف عوامی ناراضگی کا اثر کانگریس کے استحکام کی شکل میں تبدیل ہورہا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے حال ہی میں ریاست کی تازہ ترین صورتحال پر بعض قومی اداروں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کیا تھا۔ اِس سروے میں کانگریس کے 50 اسمبلی نشستوں پر کامیابی کے امکانات ظاہر کئے گئے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے لئے ابھی 18 ماہ کا وقت باقی ہے، ایسے میں پارٹی اگر اسی رفتار کو برقرار رکھے تو اسمبلی کی 119 کی منجملہ 80 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پارٹی موقف میں بہتری کے بارے میں ہائی کمان کو رپورٹ پیش کی تھی۔ زمینی حقائق کا پتہ چلانے کے لئے ہائی کمان نے سروے کا اہتمام کیا اور رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ریونت ریڈی کا موقف ہائی کمان کے پاس مزید مضبوط ہوچکا ہے۔ جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور ایم پی کے ذریعہ ہائی کمان نے ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ مخالف حکومت عوامی لہر کا فائدہ اُٹھانے کے لئے طویل مدتی ایکشن پلان تیار کریں۔ کسانوں، نوجوانوں، دلتوں اور خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے کیوں کہ گزشتہ 2 انتخابات میں یہ گروپس ٹی آر ایس کے ووٹ بینک رہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ 2023 ء اسمبلی اور 2024 ء لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کا بہتر مظاہرہ رہے گا اور قائدین کے اتحاد کی صورت میں برسر اقتدار آنا ممکن ہے۔ سروے کے مطابق بی جے پی اگرچہ تلنگانہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے لیکن دیہی علاقوں میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ شہری علاقوں میں بی جے پی کا مظاہرہ کسی قدر بہتر ہوسکتا ہے۔ اِسی دوران پارٹی قائدین نے بتایا کہ ہائی کمان نے سروے کی تفصیلات روانہ نہیں کی ہیں۔ پارٹی قائدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ نلگنڈہ، کھمم، رنگاریڈی اور محبوب نگر میں پارٹی کا موقف کافی بہتر ہوا ہے۔ نظام آباد، میدک، کریم نگر اور عادل آباد میں ٹی آر ایس کے ساتھ کانٹے کی ٹکر ہے۔ ریونت ریڈی نے سروے کی بنیاد پر حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں تیزی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ر