تلنگانہ میں کانگریس کو 5 نشستوں کا فائدہ ‘ 8 نشستوں پر جیت ‘ بی جے پی بھی 8 پر کامیاب

,

   

حیدرآباد پر اسد الدین اویسی کا قبضہ برقرار ۔ بی آر ایس کا مکمل صفایا ۔ نلگنڈہ سے کانگریس امیدوار کی 5 لاکھ 60 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے ریکارڈ کامیابی

حیدرآباد 4 جون ( سیاست نیوز) پارلیمانی انتخابات میں تلنگانہ کی جملہ 17 نشستوں میں بھارتیہ راشٹرسمیتی کا مکمل صفایا ہوچکا ہے جبکہ کانگریس کی نشستوں میں پانچ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ بی جے پی نے اپنی نشستوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 8 کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ریاست میں کانگریس نے پارلیمانی انتخابات میں بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے 5 اضافی نشستیں حاصل کی ہیںاور مجموعی طور پر اپنی نشستوں کو 8 تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی نے 4نشستوں میں مزید 4 نشستوں کے اضافہ کے ذریعہ اپنی نشستوں کو 8 تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ مجلس اتحادالمسلمین کے امیدوار بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پارلیمانی حلقہ حیدرآبادسے مسلسل پانچویں مرتبہ ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار مادھوی لتا کو 3لاکھ 38ہزار ووٹوں سے شکست دی ہے۔ تلنگانہ کے 17 حلقہ جات پارلیمان میں کانگریس پارٹی نے نلگنڈہ ‘ کھمم‘ ناگرکرنول‘ ورنگل ‘ محبوب آباد‘ ظہیر آباد‘ بھونگیر اور پیداپلی سے کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی کو عادل آباد‘ نظام آباد‘ سکندرآباد‘ کریم نگر ‘ ملکاجگری ‘ میدک‘ چیوڑلہ اور محبوب نگر سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کانگریس نے 2019 انتخابات میں پارلیمانی حلقوں ملکا جگری‘ نلگنڈہ اور بھونگیر سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار کانگریس کو اپنے حلقہ ملکا جگری سے محروم ہونا پڑا ہے جہاں بی جے پی کے امیدوار ایٹالہ راجندر نے 3 لاکھ 87 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ کانگریس نے اپنے دو حلقہ جات پارلیمان نلگنڈہ اور بھونگیرسے کامیابی حاصل کی ہے ۔ نلگنڈہ سے کانگریس امیدوار کے ۔رگھوویرا ریڈی نے 5 لاکھ 60 ہزار ووٹوں سے ریکارڈ کامیابی حاصل کی اور حلقہ پارلیمان بھونگیر سے کانگریس امیدوار سی ایچ کرن کمار ریڈی نے 2لاکھ 22 ہزار کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ کانگریس امیدوار حلقہ پارلیمان کھمم آر رگھو رام ریڈی نے 4 لاکھ 67 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کرکے بی آر ایس رکن پارلیمنٹ ناما ناگیشور راؤ کو شکست دے دی۔حلقہ پارلیمان ناگر کرنول سے کانگریس امیدوار ملو روی نے 94 ہزار 414 ووٹوں سے اپنے قریبی حریف بی جے پی امیدوار کو شکست دی اس نشست سے بی آر ایس نے سابق آئی پی ایس عہدیدار آر ایس پروین کمار کو میدان میں اتارا تھا جو تیسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ پارلیمان ورنگل سے سابق وزیر کڈیم سری ہری کی دختر کانگریس امیدوار مسز کڈیم کاویا نے 2 لاکھ 19 ہزار ووٹوں سے اپنے قریبی حریف بی جے پی امیدوار کو شکست دی۔ حلقہ پارلیمان محبو ب آباد سے کانگریس امیدوار بلرام نائیک نے بی آر ایس کی اس نشست پر اپنی قریبی حریف ایم کویتا کو 3 لاکھ 50 ہزار ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پیدا پلی سے کانگریس امیدوار جی ومشی کرشنا نے قریبی حریف بی جے پی امیدوار جی سرینواس کو ایک لاکھ 31 ہزار سے شکست دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔ حلقہ پارلیمان ظہیر آباد سے کانگریس امیدوار سریش شیٹکر نے اپنے قریبی حریف بی جے پی امیدوار بی بی پاٹل کو 46 ہزار ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی ۔ بی جے پی نے ملکا جگری کے علاوہ جن حلقوں سے کامیابی حاصل کی ان میں کریم نگر سے بنڈی سنجے نے 2 لاکھ 25ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ چیوڑلہ سے پارٹی امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی نے 1 لاکھ 66 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کرکے کانگریس امیدوار ڈاکٹر رنجیت ریڈی کو شکست دے دی۔حلقہ پارلیمان محبوب نگر سے بی جے پی امیدوارہ ڈی کے ارونانے کانگریس امیدوار ومشی چند ریڈی کو 4500 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ حلقہ میدک سے بی جے پی امیدوار رگھونندن راؤ نے کانگریس امیدوار نیلم مدھو کو 39 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔اسی طرح حلقہ پارلیمان نظام آباد سے موجودہ ایم پی ڈی اروند نے اپنے قریبی حریف کانگریس امیدوار ٹی جیون ریڈی کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دی ۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے حلقہ پارلیمان سکندرآباد سے 50 ہزار ووٹوں سے اپنے قریبی حریف کانگریس امیدوار ڈی ناگیندر کو شکست دی اور اپنی نشست پر قبضہ برقرار رکھا۔ حلقہ پارلیمان عادل آباد سے بی جے پی امیدوار جی گنیش نے کانگریس امیدوار اتارم سگونا کو 90 ہزار کی اکثریت سے شکست دی۔ تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان راست مقابلہ رہا اور بی آر ایس کے امیدوار بیشتر حلقہ جات پارلیمان پر تیسرے مقام پر رہے۔ 3