تلنگانہ میں کانگریس کی جیت کیلئے 79 حلقوں پر کامیابی کا نشانہ

   

۔39 ماہ قبل ہی منصوبہ بندی، ہر قائد ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کی طرح مظاہرہ کریں: مانکیم ٹیگور
حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس کے انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور نے کہا کہ 2023ء کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 79 حلقوں پر کامیاب بنانے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے ٹیم ورک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے 39 ماہ قبل ہی منصوبہ بندی تیار کرلی گئی ہے۔ تلنگانہ میں قیادت کی تبدیلی کا قطعی فیصلہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کریں گے۔ تب تک پارٹی کے سینئر و جونیر قائدین کو ٹیم انڈیا کی طرح اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ ہر قائد کو اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانی ہوگی۔ پارٹی کو دیہی علاقوں تک طاقتور بنانے کیلئے منڈل سطح تک پروگرامس دیئے جائیں گے اور پارٹی کارکنوں کو ریاست کے ہر گھر کو کھٹکھٹانا ہوگا۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے ہی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے۔ اس کا پیغام عوام تک پہنچانے میں کانگریس ناکام ہوئی ہے۔ ماضی میں جو غطیاں ہوئی ہیں اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے کانگریس پارٹی اپنے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرے گی۔ امیدواروں کے انتخاب میں لمحے آخر تک مسئلہ کو ٹالہ نہیں جائے گا بلکہ جنگ لڑنے کیلئے پہلے ہی سپاہیوں کا انتخاب کرلیا جائے گا۔ مانکیم ٹیگو نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کا مضبوط ووٹ بنک ہے۔ صرف اس کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔ پارٹی میں ڈسپلن بہت ضروری ہے۔ کانگریس پارٹی میں اظہارخیال کی آزادی ہے مگر اس کا بیجا استعمال کرنے میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس کو موضوع بحث بنانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے اگر کوئی مسائل ہیں کسی موضوع پر نظریاتی اختلافات ہیں تو وہ اس کو نئے اور حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کی غیرموجودگی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اور اے آئی سی سی سکریٹری موجود ہیں۔ ان سے مسئلہ کو رجوع کیا جاسکتا ہے۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور نہ عوام بی جے پی کو قبول کریں۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے جن چار حلقوں پر کامیابی حاصل کی وہاں اس کا موقف کمزور ہوگیا ہے۔ اسمبلی میں بی جے پی صرف ایک حلقہ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ کانگریس پارٹی دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات، گریجویٹ کوٹہ کونسل انتخابات، جی ایچ ایم سی، ورنگل اور کھمم کے انتخابات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔