اپریل کے بعد غریبوں کیلئے مکانات ،کے سی آر فرضی بابائے قوم ، مریال گوڑہ میں کانگریس کی انتخابی مہم ، چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد : 4 فبروری ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عوام سے اپیل کی کہ کانگریس حکومت کی دو سالہ کارکردگی کی بنیاد پر مجالس مقامی کے انتخابات میں کانگریس امیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔ بلدی انتخابات کی مہم کے پہلے دن چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج نلگنڈہ ضلع کے مریال گوڑہ کا دورہ کیا اور ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکول کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اس موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے اپریل کے بعد تلنگانہ میں غریبوں کو لاکھوں مکانات کی فراہمی کا وعدہ کیا اور کہا کہ ریاست کے بجٹ میں اندراماں ہاؤزنگ مکانات کی تعمیر کو شامل کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے انتخابات کے بعد کسانوں کیلئے رعیتو بھروسہ اسکیم پر عمل آوری کا وعدہ کیا ۔ ریونت ریڈی نے گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی کارکردگی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی تفصیلات بیان کی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10برسوں میں بی آر ایس حکومت نے عوام کو نظرانداز کردیا ۔ غریبوں کیلئے مکانات اور راشن کارڈس جاری نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت 3.17کروڑ افراد کو فی کس 6کیلو چاول مفت سربراہ کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں کانگریس کا کسی بھی پارٹی سے مقابلہ نہیں ہے ۔ بی جے پی اور بی آر ایس کو عوام مسترد کردیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کو کوئی طاقت روک نہیں پائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ریاست ہے ۔ کسانوں کیلئے 21 ہزار کروڑ کا قرض معاف کیا گیا جس سے 25.35 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوا ۔ باریک چاول کی پیداوار پر 500روپئے بونس دیا جارہا ہے ۔ رعیتو بھروسہ کے تحت فی ایکڑ 6 ہزار روپئے کی مدد کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات کے بعد رعیتو بھروسہ کی امدادی رقم جاری کی جائے گی ۔ چیف منسٹر نے شہری علاقوں کی ترقی کیلئے حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیا اور کہاکہ مریال گوڑہ میں بنیادی انفراسٹرکچر کو ترقی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو مفت سفر کی سہولت اور رعایتی شرح پر پکوان گیس سیلنڈر سربراہ کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں 10 برسوں تک کانگریس برسراقتدار رہے گی اور کانگریس کے اقتدار کو مزید 8 سال باقی ہیں۔ فون ٹیاپنگ معاملہ میں سابق چیف منسٹر کے سی آر کو نوٹس کی اجرائی پر بی آر ایس قائدین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت میں فون ٹیاپنگ کے ذریعہ اپوزیشن قائدین ، صحافیوں ، صنعت کاروں ، ججس اور فلمی ستاروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان بات چیت بھی سنی گئی جو کہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے ، کوئی بھی حقیقی انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا ۔ کے سی آر کو نوٹس دینے پر تلنگانہ کے سماج اور بابائے قوم کو نوٹس کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 10سالہ حکمرانی میں جو حرکات کی گئیں اس کیلئے بابائے قوم قرار دینا افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سماج میں ایسے شخص کو بابائے قوم نہیں کہا جاسکتا ۔ اگر کے سی آر کو نوٹس تلنگانہ سماج کونوٹس کے مترادف ہے تو پھر کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے فارم ہاؤز میں تلنگانہ عوام کو حصہ داری دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے جو جائیدادیں حاصل کی ہیں کیا اُن میں تلنگانہ عوام کو حصہ دیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ کے حقیقی بابائے قوم پروفیسر کودنڈارام اور تلنگانہ تلی سونیا گاندھی ہے ۔ کے سی آر کی حرکتیں بابائے قوم کی طرح نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کو عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ 10برسوں میں نلگنڈہ کی ترقی کو نظرانداز کردیا گیا۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کی 116 میونسپلٹیز میں کانگریس کے 103 میونسپلٹیز پر کامیابی کا دعویٰ کیا ۔ چیف منسٹرنے کہا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں 3ہزار 500 مکانات کے حساب سے جملہ 4.50لاکھ مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ 20ہزار کروڑ سے اقامتی اسکولوں کی تعمیر جاری ہے ۔ اس موقع پر ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، لکشمن کمار ، رکن پارلیمنٹ رگھوویر ریڈی اور دوسرے موجود تھے ۔ 1