حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا اور ٹیکہ اندازی کروانے والے متاثرین میں معمولی علامات پائی جا رہی ہیں اور وہ روایتی علاج سے ٹھیک ہو رہے ہیں۔ گذشتہ تین یوم سے شہر کے دواخانوں اور ایسے ڈاکٹرس جنہو ںنے کورونا وائرس کے پہلے اور دوسرے دور میں مریضوں کے درمیان رہتے ہوئے ان کا علاج کیا ہے ان ڈاکٹرس نے بتایا کہ دوبارہ شہر میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور جو لوگ علامات کے ساتھ رجوع ہورہے ہیں ان کا معائنہ کرنے کے بعد وہ کوروناکا شکار پائے جا رہے ہیں اور کئی افراد بغیر کسی علامات کے کورونا وائرس سے متاثر پائے جانے لگے ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اگر تیسری لہرآتی ہے تو یہ 15فیصد زیادہ تیز رفتار کے ساتھ شہریوں کو متاثر کر سکتی ہے اسی لئے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کی برقراری میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے ۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے بتایا کہ گذشتہ چند یوم سے کورونا وائرس کے متاثرین علاج کے لئے رجوع ہورہے ہیں اور جو لوگ ٹیکہ لے چکے ہیں ان میں مرض کی شدت نہیں دیکھی جا رہی ہے ۔ م
لیکن جن لوگوں نے اب تک ٹیکہ نہیں لیا ہے انہیں سانس لینے میں تکلیف جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ اگر کسی میں کورونا وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں انہیں فوری اپنا معائنہ کرواتے ہوئے اس با ت کی تصدیق کرلینی چاہئے کہ آیا وہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں یا وائرل بخار و دیگر وجوہات کی بناء پر ان میں یہ علامات پائی جا رہی ہیں۔م
کورونا وائرس کے مریضوں کے سرکاری طور پر معائنوں کی تعدا دمیں کمی کے سبب حقیقی تعداد منظر عام پر نہیں آرہی ہے لیکن خانگی ڈاکٹرس کے کلینکس سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد سے اندازہ ہورہا ہے کہ شہر حیدرآباد میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور اس اضافہ کو احتیاط اور ٹیکہ اندازی کے ذریعہ ہی روکا جاسکتا ہے اسی لئے جن لوگوں نے اب تک ٹیکہ نہیں لیا ہے انہیں فوری ٹیکہ کے حصول پر توجہ دینی چاہئے ۔
