l حکومت اور آئی سی ایم آر کے اعداد و شمار میں بڑا فرق
l ایک مریض کی توثیق کی گئی تو 41 کو ریکارڈ نہیں کیا گیا
حیدرآباد۔یکم۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں حکومت نے 42 کورونا وائرس کے متاثرین پر ایک مریض کو پازیٹیو شمار کیا ہے۔ آئی سی ایم آر کی جانب سے کئے گئے دعوے کے مطابق ریاست تلنگانہ میں اب تک 2.43 کروڑ شہری کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار میں تاحال محض 6 لاکھ متاثرین کی تعدادکی توثیق کی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے آئی سی ایم آر کے اعداد و شمار کا انکشاف کرتے ہوئے جو ٹوئیٹ کیا ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ تلنگانہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کو گھٹا کر پیش کیا گیا ہے اور تلنگانہ میں جو تعداد کو گھٹا کر پیش کی گئی ہیں اس کے مطابق اگر تلنگانہ ایک کورونا وائرس کے مریض کی توثیق کی گئی ہے تو 41 مریضوں کو ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کو بیشتر تمام ریاستوں میں گھٹا کر پیش کیا گیا ہے اور پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں 1مریض کی توثیق پر 22 مریضوں کی گنتی ہونی چاہئے کیونکہ آندھراپردیش نے 21 کورونا وائرس کے مریضو ںکو شمار نہیں کیا ہے اور 22 مریضوں پر ایک ہی مریض شمار کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد گھٹا کر پیش کرنے والے ممالک میں تلنگانہ بھی شامل ہے جو کہ ملک کی ان 12ریاستوں سے آگے ہے جن میں کوروناو ائرس کے مریضوں کی اضافی تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی سی ایم آر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست نے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کو گھٹا کر پیش کیا ہے اور تلنگانہ میں 42گنا زیادہ متاثرین ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے کافی بڑی تعداد میں مریضوں کی تعداد کو مخفی رکھا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی سی ایم آر کی جانب سے تیار کی گئی رپور ٹ میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے فیور سروے کے نام پر مریضوں کو دی جانے والی ادویات اور ان کی تعداد کا بھی شمار کیا گیا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ صحت کی جانب سے تلنگانہ کے کورونا وائرس مریضوں کی تعداد کے سلسلہ میں آئی سی ایم آر کے انکشاف پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن ریاست کے کئی ایک ڈاکٹرس نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ریاست میں پہلے اور دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن اور اس سے قبل کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کو بڑی حد تک گھٹا کر پیش کیا گیا ہے اور اب بھی کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کو گھٹا کر ہی پیش کیا جا رہاہے ۔
