تلنگانہ میں کورونا موبائیل ٹسٹ کے سلسلہ میں عدالت کا حکومت سے استفسار

   

دیہی علاقوں میں موبائیل ٹسٹ کی ضرورت، 26 مئی تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے کورونا ٹسٹ میں اضافہ سے متعلق کیرالا حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے تلنگانہ حکومت سے دریافت کیاکہ آیا وہ شہریوں کے کورونا ٹسٹ کے لئے موبائیل ٹسٹ لیاب کا اہتمام کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس رگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس ڈی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سوریہ پیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گذار نے بڑے پیمانہ پر کورونا ٹسٹ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہاکہ ایسے افراد جن میں کورونا کے آثار نہیں پائے گئے اُن کا بھی ٹسٹ کیا جانا چاہئے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہاکہ سوریہ پیٹ میں کورونا کے بڑے پیمانے پر متاثرین پائے گئے اِس کے باوجود حکومت نے ضلع کو کورونا سے پاک قرار دیا۔ عدالت نے سوریہ پیٹ ضلع میں 24 اپریل کے بعد کئے گئے ٹسٹ کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ بنچ نے کہاکہ سوریہ پیٹ حیدرآباد کے قریب ہے اور اُسے کورونا فری قرار دینے کے سلسلہ میں ٹسٹ کو بنیاد نہیں بنایا گیا جو باعث تشویش ہے۔ حیدرآباد میں کورونا ٹسٹ کے لئے زیادہ تر لیابس موجود ہیں تاہم دیہی علاقوں میں موبائیل لیابس کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ حکومت سے دریافت کیا گیا کہ آیا وہ موبائیل لیابس کے انتظام کے موقف میں ہے یا نہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد کو ہدایت دی گئی کہ وہ 26 مئی تک ریاست کے ضلع واری سطح پر کئے گئے کورونا ٹسٹ کی تفصیلات پیش کریں۔ عدالت نے ایک اور درخواست کی سماعت کی جس میں نرمل ضلع کو گرین زون میں تبدیل کرنے پر اعتراض کیا گیا۔ درخواست گذار نے کہاکہ بڑی تعداد میں کورونا کیسیس کے باوجود اسے گرین زون میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے ضلع کلکٹر سے کورونا کیسیس کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔