ضلع کھمم میں 21 دنوں میں 1480 بچوں میں کورونا علامتیں
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا وائرس کی تیسری لہر نے دستک دینی شروع کردی ہے! ضلع کھمم میں گذشتہ 21یوم کے دوران 1480 بچوں میں کورونا وائرس کی علامات کی توثیق نے نہ صرف کئی سوال کھڑے کئے ہیں بلکہ ریاست میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ دوسری لہر کے دوران کھمم میں اپریل اور مئی کے دوران 800 بچے کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے تھے لیکن گذشتہ 21 یوم کے دوران 1480 بچوں میں کورونا وائرس کی علامات پائے جانے کے بعد ضلع انتظامیہ کا کہناہے کہ کھمم میں جاری گھر گھر سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ان بچوں میں معمولی علامات کے ساتھ ساتھ معتدل علامات پائی جانے لگی ہیں۔ ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کا شبہ کیا جارہا ہے جس سے والدین اور سرپرستوں میں خوف دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میںکھمم کے واقعات سے شہریوں میں مزید تشویش ہے۔ تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کی مکمل برخواستگی کے علاوہ مرحلہ وار انداز میں اسکولوں کی کشادگی کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ضلع کھمم میں جس طرح سے گذشتہ 21 یوم کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے ماہر اطباء کا کہناہے کہ دوسری لہر سے نمٹنے کے اقدامات میں کی گئی تاخیر کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تیسری لہر سے نمٹنے میں بھی تاخیر کی جاسکتی ہے جو کہ خطرناک ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ ضلع انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق 21 یوم کے دوران ایک ضلع میں 1480 بچو ںمیں علامات کا پایا جانا تشویشناک ضرور ہے۔ لیکن اس میں مثبت پہلو یہ ہے کہ بچوں کے علامات سے صحت یاب ہونے کا فیصد 100 ہے جو کہ صورتحال کو قابو میں قرار دینے کیلئے کافی تصور کیا جا رہاہے۔