مریضوں کے افراد خاندان کا بھی ٹسٹ کیا جائے، مفاد عامہ درخواست پر چیف جسٹس کی سماعت
حیدرآباد۔/9 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں کم تعداد میں کورونا ٹسٹ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے حکومت کے اس فیصلہ پر نکتہ چینی کی جس میں فیور کوویڈ۔19 ٹسٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ اس ٹسٹ کے ذریعہ کس طرح کورونا وائرس کے بارے میں حقیقی صورتحال کا علم ہوگا۔ عدالت نے متوفی افراد کے بلڈ سیمپل حاصل نہ کرنے اور کورونا ٹسٹ نہ کرنے سے متعلق ڈاکٹرس کو دی گئی ہدایت پر بھی ناراضگی جتائی۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے ان فیصلوں کے بارے میں حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں کورونا کے ٹسٹ بڑے پیمانہ پر کئے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ امریکی صدر کی سیکورٹی ٹیم میں جب ایک بحریہ کے ملازم کو کورونا پازیٹو پایا گیا تو صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دو مرتبہ خود اپنا ٹسٹ کروایا۔ عدالت نے کہا کہ جب دنیا بھر کے صحت کے ماہرین زائد ٹسٹ کرانے کی وکالت کررہے ہیں تو پھر تلنگانہ میں ٹسٹ پر پابندی کیوں۔ کم ٹسٹ کرنے کی صورت میں حقیقی صورتحال کا علم نہیں ہوپائے گا۔ عدالت پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کررہی تھی۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 14 مئی کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی شخص میں کورونا کے اثرات پائے جائیں تو تمام ارکان خاندان کا ٹسٹ کیا جانا چاہیئے صرف ایک کا ٹسٹ ناکافی ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم قابل لحاظ تعداد میں ٹسٹ نہیں کررہے ہیں تو مطلب یہ کہ ہم خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ عدالت نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ سماعت کی۔ انہوں نے متوفی افراد کے خون کے نمونے حاصل نہ کرنے اور ان کا کورونا ٹسٹ نہ کرنے کے احکامات پر حیرت کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن نے یہ نہیں کہا کہ صرف کورونا کے اثرات پائے جانے والوں کا ٹسٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افراد خاندان کو کورنٹائن کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان تمام کا بھی ٹسٹ کیا جانا چاہیئے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے بتایا کہ حکومت مرکزی وزارت صحت کے گائیڈ لائنس پر عمل کررہی ہے۔