۔8 ہزار بچوں کو آئی سی یو میں علاج کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے ، ماہرین کا اندازہ
ریاست بھر میں 5 ہزار خصوصی بیڈس کی تیاری ، تین ماہ تک وبا کا اثر رہنے کا امکان
حیدرآباد :۔ کورونا کی دوسری لہر کی تباہی سے ابھی سنبھلے ہی نہیں تھے کہ کورونا کی تیسری لہر کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ۔ سائنسداں اور ماہرین اندازہ لگا رہے ہیں کہ تلنگانہ میں کورونا کی لہر تین ماہ تک رہ سکتی ہے اور 30 لاکھ بچے اس وبا سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔ بچوں کا بہتر سے بہتر علاج کرنے کے لیے 6 ہزار تا 8 ہزار بچوں کو آئی سی یو میں علاج کی ضرورت پڑے گی ۔ جن میں ایک فیصد بچوں کو ملٹی سسٹم الفلیٹمری سنڈروم (MIS-C) خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ کورونا کی تیسری لہر کا سامنا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ محکمہ صحت تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ حیدرآباد کے نیلوفر ہاسپٹل میں 1000 بیڈس تیار کئے جارہے ہیں ۔ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ شہر کے دوسرے سرکاری ہاسپٹلس میں اضلاع ہیڈ کوارٹرس کے سرکاری ہاسپٹلس میں کم از کم 30 یا 50 بیڈس دستیاب رکھے جارہے ہیں جو آکسیجن کے ساتھ وینٹی لیٹرس پر مشتمل ہوں گے ۔ کورونا کی پہلی لہر کا بچوں پر کوئی اثر نہیں دیکھا گیا ۔ مگر دوسری لہر میں کچھ حد تک بچے متاثر ہوئے ۔ تلنگانہ میں 81.967 بچے کورونا سے متاثر ہوئے حکومت کی جانب سے ریاست میں جون اور اگست کے درمیان ملٹی سسٹم انفلیمٹری سنڈروم (MIS-C) کے کیسس میں اضافہ ہونے کا اندازہ کررہی ہے ۔ تیسری لہر میں 30 لاکھ بچے کورونا سے متاثر ہونے اور 24 لاکھ بچوں میں کوئی علامتیں نظر نہ آنے کی پیش قیاسی کی جارہی ہے ۔ صرف 6 لاکھ بچوں میں کورونا کی علامتیں نظر آئیں گی ۔ ان میں بھی 6 تا 8 ہزار بچوں کو آئی سی یو میں علاج کرانے کی نوبت آئے گی ۔ 8 ہزار بچوں کو آئی سی یو میں علاج کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی محکمہ صحت کی جانب سے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے احتیاطی اقدامات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے بچوں کے لیے 5 ہزار بیڈس تیار کئے جارہے ہیں ۔ جس میں 2 ہزار بیڈس آئی سی یو میں تیار کئے جارہے ہیں ماباقی بیڈس آکسیجن پر مشتمل رہیں گے ۔ ادویات کی امکانی قلت کو دور کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق ادویہ کا اسٹاک دستیاب رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔۔