ماہرین کا اظہار تشویش، سرکاری اور خانگی دواخانوں میں روزانہ نئے مریض
حیدرآباد۔/27جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا کیسس کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار اور دواخانوں کی بنیادی صورتحال میں کافی فرق دیکھا گیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے بارے میں اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے تلنگانہ کی حقیقی صورتحال کے بارے میں ماہرین اُلجھن کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے بلیٹن میں کورونا کیسس سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار کے مقابلہ سرکاری دواخانوں میں شریک مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ گاندھی ہاسپٹل اور تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں روزانہ بڑی تعداد میں کورونا کے نئے متاثرین رجوع کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران اپنے بلیٹن میں مجموعی پازیٹیو کیسس کی تعداد کو 500 تک گھٹا دیا ہے اور سوائے 4 اضلاع کے گریٹر حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں کیسس کی تعداد کم بتائی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں 400 سے زائد مریض سرکاری اور خانگی دواخانوں میں زیر علاج ہیں۔ تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں 65 جبکہ کنگ کوٹھی ہاسپٹل میں 38 کورونا کے مریض زیر علاج ہیں جبکہ حکومت کے بلیٹن میں گریٹر حیدرآباد میں پیر کے دن صرف 76 کیسس کا دعویٰ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی ڈائگناسٹک سنٹرس میں کورونا کے کیسس کی تعداد کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا۔ بنیادی صورتحال اور میڈیکل بلیٹن میں فرق کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے حکومت کو تیسری لہر سے نمٹنے کے بارے میں چوکسی کا مشورہ دیا ہے۔ ریاست میں دو دیہاتوں کے عوام نے کیسس میں اضافہ کے بعد اپنے طور پر رضاکارانہ تحدیدات عائد کردی ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر کو بے اثر کرنا دراصل عوام کے ہاتھ میں ہے۔ اگر عوام قواعد پر سختی سے عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو کیسس پر قابو پانا ممکن ہے۔ محکمہ صحت نے شعور بیداری مہم میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کو اس بات پر تشویش ہے کہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ ریاست کے دیگر علاقوں میں ماسک اور سماجی دوری جیسی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔