تلنگانہ میں کورونا کے غیر علامتی مریضوں میں اضافہ تشویشناک

   

محکمہ صحت کی سخت چوکسی، ہر ضلع میں ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ
حیدرآباد: تلنگانہ میں ایک طرف محکمہ صحت کے عہدیدار کورونا کی دوسری لہر کے امکانات سے چوکس ہیں تو دوسری طرف گزشتہ دس دنوں کے دوران ریاست میں علامات کے بغیر کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد نے تشویش میں اضافہ کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دس دنوں میں ریاست میں کورونا کے جو نئے کیسس منظر عام پر آئے ہیں، ان میں کی اکثریت ایسے مریضوں کی ہے جن میں کورونا کی کوئی علامات نہیں پائی گئیں۔ علامات کے بغیر کورونا کے مریضوں کا پتہ چلانا ٹسٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے ، لہذا محکمہ صحت کے عہدیداروں کو اندیشہ ہے کہ ایسے افراد دوسروں میں وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں اور غیر علامتی کورونا کے مریض ریاست میں دوسری لہر کے ذمہ دار ہوں گے ۔ محکمہ صحت نے حالیہ عرصہ میں کورونا ٹسٹنگ کے ساتھ ساتھ علامات اور غیر علامات والے مریضوں کا سروے شروع کیا تھا ۔ 25 اکتوبر تا 3 نومبر عہدیداروں نے نئے کیسس پر خصوصی توجہ دی جس پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ نئے مریضوں کی اکثریت میں کوئی علامات نہیں پائی گئیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ تلنگانہ میں حالیہ عرصہ میں روزانہ کم از کم 900 ایسے کیسس منظر عام پر آئے ہیں جن میں کوئی علامات نہیں پائی گئی۔ یکم نومبر کو 922 نئے کیسس میں 645 غیر علامتی مریض منظر عام پر آئے جبکہ 2 نومبر کو 1536 کیسس میں 1075 اور 3 نومبر کو 1637 نئے کیسس میں 1145 غیر علامتی مریضوں کا پتہ چلا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں ٹسٹنگ کی تعداد پہلے ہی دیگر ریاستوں سے کم ہے، ایسے میں غیر علامتی مریضوں کی بڑھتی تعداد دوسروں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے ۔ ریاست میں ابھی تک جملہ آبادی کے صرف 12 فیصد کا کورونا ٹسٹ لیا گیا ۔ گزشتہ دس دنوں میں 9018 غیر علامتی مریضوں کا منظر عام پر آنا حکام کیلئے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ ریاست میں پازیٹیو پائے گئے دو لاکھ 44 ہزار 143 کیسس میں ایک لاکھ 70 ہزار 900 غیر علامتی مریض پائے گئے ہیں۔ محکمہ صحت نے ہر ضلع میں ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کی ہدایت دی ہے تاکہ مریضوں کی حقیقی تعداد کا پتہ چلایا جاسکے اور غیر علامتی مریضوں کی نشاندہی کے ذریعہ دوسروں کو کورونا سے بچانے کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔