تلنگانہ میں کے سی آر خاندان کا عنقریب زوال یقینی: اتم کمار ریڈی

   

Ferty9 Clinic


اندرا پارک پر ستیہ گرہ ، مجالس مقامی فنڈز سے محروم، بھٹی وکرامارکا، محمد علی شبیر اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے پنچایت راج اداروں اور مجالس مقامی کو نظرانداز کرنے کے خلاف کانگریس پارٹی کی جانب سے آج اندرا پارک پر ستیہ گرہ منظم کی گئی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں مجالس مقامی کے عوامی نمائندوں نے حصہ لیتے ہوئے فنڈز کی عدم اجرائی اور اختیارات کو سلب کرنے پر احتجاج کیا۔ کانگریس پارٹی کی محاذی تنظیم راجیو گاندھی پنچایت راج سنگھٹن نے احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت راؤ، سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا، راجیو گاندھی پنچایت راج سنگھٹن کے کنوینر پی ہریش، ارکان اسمبلی جگا ریڈی، سیتکا، اے آئی سی سی سکریٹری ڈاکٹر چناریڈی، ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر، سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ ملوروی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر اے آئی سی سی کے سینئر قائد موتی لال ووہرا کے دیہانت پر دو منٹ کی خاموشی منائی گئی۔ اتم کمار ریڈی نے ستیہ گرہ سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پنچایت راج اداروں کو کانگریس پارٹی نے مستحکم کیا تھا لیکن کے سی آر حکومت نے ان اداروں کی اہمیت گھٹادی ہے۔ مقامی اداروں کو فنڈز کی عدم اجرائی کے علاوہ اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کو ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مجالس مقامی کے اختیارات کو سلب کرلیا ہے اور کانگریس کے عوامی نمائندوں پر ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اپنے نمائندوں کی ہراسانی پر خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے احتجاج میں شریک عوامی نمائندوں کو بھروسہ دلایا کہ ان کے اختیارات کی بحالی کیلئے کانگریس جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کا زوال قریب آچکا ہے اور کے سی آر خاندان کی گھر واپسی ہوگی۔ عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ سرپنچ اور اُپ سرپنچ کے علاوہ ایم پی ٹی سی، زیڈ پی ٹی سی اور کونسلرس کو فنڈز جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ فینانس کمیشن نے مجالس مقامی کیلئے جو فنڈ جاری کئے انہیں حوالے نہیں کیا گیا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکراما نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت دستور اور قانون کے خلاف اقدامات کررہی ہے۔ پنچایت راج اداروں کو کمزور کرنا غیر دستوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کو کمزور کرنے سے ترقی کا عمل متاثر ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ضلع کلکٹرس حکومت کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں۔ کانگریس کے سرپنچوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور ان کی بات تسلیم نہ کرنے پر کلکٹرس کے ذریعہ رکنیت سے معطل کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن کونسل کویتا نے کانگریس کے عوامی نمائندوں کو بھاری رقومات کا لالچ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مجالس مقامی کے استحکام کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ اسمبلی میں ان مسائل کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ مواضعات کی ترقی میں پنچایتوں کا اہم رول ہوتا ہے لیکن حکومت ان کے اختیارات سلب کررہی ہے۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ اور سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا نے کانگریس کے عوامی نمائندوں کو انحراف کی ترغیب پر سخت تنقید کی۔ ستیہ گرہ میں ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے مقامی عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔