تلنگانہ میں گلابی لہر ‘ چیف منسٹر کا دعوی ۔ نیا ماسٹر پلان تیار کرنے کا وعدہ

   

حیدرآباد 27 نومبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ بی آر ایس حکومت تشکیل پاتے ہی اندرون 2ماہ جی او 111 کا مسئلہ حل کردیا جائے گا ، ساتھ ہی شاد نگر تک میٹرو ریل کو توسیع دی جائے گی ۔ گریٹر حیدرآباد کو ملک میں مثالی شہر کی حیثیت سے ترقی دی جائے گی ۔ اقتدار حاصل کرنے سے پہلے ہی کانگریس نے رعیتو بندھو اسکیم کو رکوا دیا ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی اس اسکیم کو ختم کردیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج اسمبلی حلقہ جات شادنگر ، چیوڑلہ اور اندول میں بی آر ایس پرجا آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی او 111 منسوخ کرنے کیلئے تقریباً کام مکمل ہوگیا ہے ،تھوڑا کام باقی ہے وہ بھی بی آر ایس کی تیسری مرتبہ حکومت تشکیل پانے کے بعد اندرون 2ماہ مکمل ہوجائیگا ۔ وہ عوام اور کسان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہرگز اپنی زمین کو فروخت نہ کریں ۔ حیدرآباد کے اطراف و رہنے والے عوام کی اراضیات کا تحفظ کرنے کیلئے جی او 111 جاری کیا گیا تھا مگر اس کو برخواست کرانے کی کسی نے کوشش نہیں کی ۔ ایئرپورٹ قریب ہونے کی وجہ سے صنعتیں قائم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ شاہ آباد میں ویل اپین کائیٹکس کمپنیاں قائم کی گئی جس کے ذریعہ ہزاروں نوجوانوں کو روزگار حاصل ہورہا ہے ۔ یہاں کے عوام کے دو تا تین مسائل ہیں سب سے پہلے جی او 111 کوکلیئر کرنا ہے ۔ حیدرآباد سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کا ایک ماسٹر پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مستقبل میں حیدرآباد کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو اس کیلئے ماسٹر پلان کی تیاری لازمی ہے ۔ آئندہ پندرہ دن میں یہ تیار ہوجائیگا ، اس کی ذمہ داری وہ خود لیتے ہیں ۔ چیوڑلہ ۔ پالمور لفٹ اریگیشن پراجکٹ کا پانی ان علاقوں کو سربراہ کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ اگر انہیں ترقی چاہیئے تو وہ بی آر ایس کو ووٹ دیں ۔اندھیرا ، فسادات ، بدعنوانیاں ، دلالوں کا دور چاہیئے تو کانگریس کو ووٹ دیں ۔ 10سال میں تلنگانہ کی ترقی کیلئے انہوں نے وسیع تر اقدامات کئے ہیں ، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے جس کا وہ منصوبہ تیار کرچکے ہیں ۔ عوام کو 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ ہورہی ہے ،نلوں سے گھر گھر پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے ، بڑے پیمانہ پر تالابوں کا احیاء کیا گیا ، ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے جائیں گے ، آسرا پنشن کو 200روپئے سے بڑھاکر 2000 روپئے کردیا گیا ۔ بی آر ایس کی تیسری کامیابی کے بعد آسرا پنشن کو 5000 روپئے تک کردیا جائیگا ۔ تین کروڑ عوام کی آنکھوں کا مفت معائنہ کرایا گیا ۔ 80 لاکھ عوام کو عینکیں دی گئیں ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں معیاری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔ تمام بنیادی سہولتیں دستیاب رہنے سے سرکاری ہاسپٹلس میں زچگیوں کی شرح 30 فیصد سے 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ ریاست میں ہر طرف گلابی لہر چل رہی ہے جس میں کانگریس و بی جے پی دونوں جماعتیں بہہ جائیں گی ۔ عوام کو 400روپئے میں پکوان گیس حاصل ہوگا ، 5لاکھ روپئے تک مفت طبی امداد حاصل ہوگی ۔ ووٹ دینے میں معمولی سی غفلت و لاپرواہی کی گئی تو ریاست خطرہ میں پڑ جائے گی ۔ کانگریس کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے صرف جھوٹے وعدے کرکے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ کرناٹک ،چھتیس گڑھ ، راجستھان اور ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومتیں ہیں مگر وہاں تلنگانہ جیسی نہ ترقی ہے اور نہ فلاحی اسکیمات ہیں ۔ اگر کانگریس کے وعدوں پر بھروسہ کرکے ووٹ دیا گیا تو اپنے پیرو ں پر کلہاڑی مارنے جیسا ہوگا کیونکہ کانگریس میں چیف منسٹر کے دعویداروں کا معاملہ ایک انار سو بیمار جیسا ہے اور کانگریس قائدین کو ہر چھوٹے کام کیلئے دہلی سے اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے جبکہ بی آر ایس کی ہائی کمان تلنگانہ کے عوام ہے اور بی آر ایس کی حکومت عوام کو جوابدہ ہے ۔ ن