تعلیم، مالیات اور مستقبل کی فکر ۔ CRISP سروے کے حیرت انگیز انکشافات
حیدرآباد 27 جنوری (سیاست نیوز ) ریاست کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ڈگری طلبہ کی بڑی تعداد ذہنی دباؤ اور مختلف نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ خاندانی تعاون کی کمی، مالی مسائل، مواصلاتی کمزوریاں اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت طلبہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کررہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً ایک تہائی طلبہ کسی نہ کسی ذہنی مسئلہ کا شکار ہیں جبکہ 59 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ مسائل کے حل کیلئے نفسیاتی مشاورت کے خواہاں ہیں۔ یہ انکشاف سنٹر فار ریسرچ ان سکمینر اینڈ پالیسیز (CRISP) کے تحت ایک سروے میں سامنے آیا جو عثمانیہ یونیورسٹی (04) سے منسلک سرکاری اور حانگی کالجس میں طلبہ کی ذہنی صحت اور سماجی مسائل پر کیا گیا۔ اس سروے میں تقریباً 2787 طلبہ نے حصہ لیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ تجارت کے ریٹائرڈ پروفیسر ایس وی ستیہ نارائنا نے اس پراجکٹ میں تعلیمی سرپرست کی حیثیت سے کام کیا اور نتائج سے میڈیا کو واقف کرایا۔ سروے میں 56.30 فیصد طالبات اور 43.70 فیصد طلباء شامل تھے۔ ان میں سے 62.40 فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے تھا جبکہ 37.40 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے تھا۔ طلبہ نے بتایا کہ تعلیمی دباؤ، امتحانات میں کارکردگی کا خوف، بہتر ملازمت سے متعلق تشویش، اہداف کے حصول میں غیر یقینی، کم خود اعتمادی، خاندانی تنازعات، مالی عدم تحفظ ، والدین کی صحت کے مسائل و غربت جیسے عوامل ذہنی تناؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ ہاسٹل زندگی اور سے ماحول سے ہم آہنگ نہ ہو پانا بھی اہم مسئلہ کے طور پر سامنے آیا۔ پروفیسر ایس وی ستیہ نارائنا کے مطابق اگر حیدرآباد جیسے تعلیمی مرکز میں یہ صورتحال ہے تو اندازہ ہے کہ ساری ریاست میں تقریباً 50 فیصد نوجوان ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ توجہ صرف تعلیم اور امتحانات تک محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں، سماجی میل جول و شخصیت سازی پر بھی برابر توجہ دی جانی چاہئے۔ ہر طالب علم کے مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے مطابق اقدامات نہ کئے گئے تو کم عمری میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جس کا اثر بالآخر معاشرے پر پڑیگا ۔ سروے میں مسئلہ کے حل کیلئے متعدد سفارشات کی گئیں جن میں کالج کیمپس میں نفسیاتی مشاورتی مراکز کا قیام، فیکلٹی کی رہنمائی میں مینٹرشپ سسٹم، زندگی کی مہارتوں کو فروغ دینے کانفرنس اور ورکشاپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کی مواصلاتی صلاحیت، ٹائم مینجمنٹ، تناؤ برداشت کرنے کی صلاحیت و مالی خواندگی پر خصوصی تربیت ، کیریئر کونسلنگ اور انٹرن شپ میں اضافہ کرنا۔ ذہنی صحت پر باقاعدہ سروے اور اسٹوڈنٹس کلبس کے قیام کی بھی سفارش شامل ہے تاکہ ثقافتی، کھیل اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعہ طلبہ کے درمیان سماجی رابطہ اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکے ۔ 2