حیدرآباد ۔ تلنگانہ کو ملک کی آٹھویں ریاست کا اعزاز حاصل ہوا ہے جہاں ہر گھر کو برقی کی سربراہی کا نشانہ صد فیصد مکمل کرلیا گیا۔ انڈیا ریسیڈنشیل انرجی سروے 2020 کا اہتمام کونسل آف انرجی انوائرمنٹ ان واٹر کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ میں ہر گھر کو برقی کی سربراہی کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ریاست کی سماجی اور معاشی ترقی سے متعلق رپورٹ حال ہی میں اسمبلی میں پیش کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ تلنگانہ میں 1.6 کروڑ برقی صارفین ہیں جن میں 24.8 لاکھ زرعی اور 16 لاکھ صنعتی صارفین ہیں۔ میڑچل ملکاجگیری ضلع میں برقی صارفین کی 87 فیصد تعداد گھریلو صارفین کی ہے جبکہ جنگاؤں ضلع میں مجموعی برقی کنکشن کا 31 فیصد زرعی صارفین سے تعلق رکھتا ہے۔ تلنگانہ میں حکومت تمام شعبوں بشمول زراعت اور صنعت کو 24 گھنٹے بلا وقفہ برقی سربراہ کررہی ہے۔ 2018 سے زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجہ میں زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014 میں ریاست میں برقی پیداوار 7778 میگاواٹ تھی جو 2019-20 میں بڑھ کر 15864 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ برقی پیداوار میں بہتری کے نتیجہ میں زرعی اور صنعتی شعبہ کی ترقی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ریاست میں بھدرادری تھرمل پاور اسٹیشن قائم کیا گیا جس کی گنجائش 270×4 میگا واٹ ہے جبکہ 800×5 میگاواٹ کی گنجائش والے یادادری تھرمل پاور اسٹیشن کا آئندہ دو برسوں میں آغاز ہوگا۔ اکتوبر 2020 تک برقی کے نقصانات محض 2.5 فیصد درج کئے گئے۔ گزشتہ چند برسوں میں ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبیوشن نقصانات پر قابو پایا گیا۔ حکومت نے دونوں شعبہ جات پر 29106 کروڑ کی سرمایہ کاری کی ہے۔