تلنگانہ میں ہونے والی اموات کی حقیقی تعداد نظر انداز

   

کورونا کے علاج اور حالات پر قابو پانے میں حکومت کی غفلت
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں یومیہ 1500 سے زائد اموات ہورہی ہیں لیکن ان اموات کا اندراج نہ کئے جانے کے سبب بلیٹن میں شمار نہیں کیا جا رہاہے اور اس کے علاوہ گھروں میں ہونے والی ان اموات کا ریکارڈ بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں مگر حکومت مکمل طور پر زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ برسراقتدار جماعت کے ایک سرکردہ قائد نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے تمام منڈلوں میں یومیہ کم از کم تین اموات واقع ہورہی ہیں اور منڈل واری اساس پر اعداد و شمار کے حصول کے علاوہ سرکاری دواخانوں اور خانگی دواخانوں میں ہونے والی اموات کی حقیقی تعداد ہی حاصل کرلی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بلیٹن سے 100 گنا زیادہ اموات ریکارڈ کی جائیں گی لیکن اگر منڈل واری اساس پر تحصیلداروں سے تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں توایسی صورت میں اس بات کا انکشاف ہوگا کہ تمام منڈلوں میں یومیہ کم از کم 3اموات واقع ہورہی ہیں اور ان اموات کے سلسلہ میں رپورٹ نہیں کی جار ہی ہے ۔ شہری علاقوں میں جہاں اموات رپورٹ کی جارہی ہیں ان میں بھی کافی کمی ہے اور خانگی دواخانوں میں ہونے والی اموات کو شمار نہیں کیا جا رہاہے جبکہ شمشان گھاٹ اور قبرستانوں میں جنازوں کی قطاریں لگنے لگی ہیں اور قبرستانوں میں نئی قبروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہاہے اور رات کے اوقات میں بھی کئی قبرستانوں میں تدفین کا عمل جاری ہے اور شہر حیدرآباد کے شمشان گھاٹوں میں لکڑی کی قلت کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں ۔ اس کے باوجود حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے جو میڈیکل بلیٹن جاری کیا جا رہاہے اس میں مرنے والوں کی تعداد کو محدود دکھایا جا رہاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے شہرحیدرآباد کے علاوہ ضلعی دواخانوں پر کچھ حد تک توجہ دی جا رہی ہے جبکہ دیگر قرنطینہ مراکز اور گھریلو قرنطینہ میں رہنے والوں کو نظر انداز کیا جا رہاہے جس کی وجہ اموات کی شرح میں اضافہ ہونے لگا ہے لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا رہاہے۔ ریاستی محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق عمل کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ معائنوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہاہے لیکن گھریلو قرنطینہ میں موجود مریضوں کو نظر انداز کرنے کے سبب اموات میں اضافہ ہونے لگا ہے جو کہ تشویشناک صورتحال کا سبب بن سکتا ہے۔ شہر حیدرآباد میں گیاس سربراہ کرنے والوں کا کہناہے کہ شہر کے ہر مکان میں کم از کم ایک مریض موجود ہے جو کہ کورونا وائرس سے متاثر ہے لیکن اس کے باوجود حالات پر قابو پانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔