چیف منسٹر اپنے محل سے باہر نکلیں اور عوام کے صحت کی فکر کریں، سرکاری دواخانوں کی حالت ابتر
حیدرآباد۔ 6 ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر اور سینئر کانگریسی قائد محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں ہیلتھ ایمرجنسی کے اعلان کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ساری ریاست ڈینگو اور دیگر وبائی امراض کی لپیٹ میں ہے اس کے باوجود تلنگانہ حکومت ہیلتھ ایمرجنسی کے اعلان میں تامل کیوں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ایمرجنسی کے اعلان سے امراض سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بہتر توجہ دی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر سیاست اور غرور کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوامی صحت کے تحفظ کی فکر کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت ای راجندر سرکاری دواخانوں کی بہتر صورتحال کا دعوی کررہے ہیں لیکن دواخانوں کی حقیقی صورتحال مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے مطابق ڈینگو، چکن گنیا، ملیریا اور ٹائیفائیڈ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ سرکاری دواخانوں میں علاج کے لیے طویل قطاریں ہیں لیکن دواخانوں میں ادویات، ڈاکٹرس اور طبی عملے کی کمی کے سبب مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ محمد علی شبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس قدر سنگین صورتحال کے باوجود چیف منسٹر نے ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا اور نہ ہی اپوزیشن قائدین سے مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو چاہئے تھا کہ وہ کم از کم فیور ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے۔ عوام نے اس لیے منتخب نہیں کیا کہ کے سی آر اپنے محل نما گھر میں خود کو محصور کرتے ہوئے ایک بادشاہ کی طرح زندگی بسر کریں۔ عوام کے دکھ درد میں شامل ہونے والے قائدین کو ہمیشہ عوام اپنے دلوں میں جگہ دیتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب تلنگانہ ریاست وبائی امراض کی اس قدر لپیٹ میں ہیں اور حکومت صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر اور اضلاع میں وبائی امراض سے ہونے والی اموات کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ حکومت کی بدنامی نہ ہو۔