تلنگانہ میں 1.29 کروڑ ایل پی جی گھریلو صارفین کو سربراہی میں کوئی رکاوٹ نہیں

   

چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ کا اعلیٰ سطحی اجلاس، 810 ڈسٹری بیوٹرس کے ذریعہ بلا وقفہ سربراہی، بلیک مارکیٹنگ پر پولیس کی نظر
حیدرآباد ۔13 ۔ مارچ (سیاست نیوز) چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تلنگانہ میں ایل پی جی کی طلب اور سربراہی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ریاست کے 1.29 کروڑ صارفین کو بلا وقفہ ایل پی جی سلینڈرس کی سربراہی کا تیقن دیا ۔ چیف سکریٹری نے آئیل کمپنیوں اور سیول سپلائیز ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کے ساتھ سکریٹریٹ میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی بحران کے تلنگانہ پر اثرات کا جائزہ لیا۔ رام کرشنا راؤ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سلینڈرس کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لئے چوکسی اختیار کریں اور ریاست بھر میں ایل پی جی کی بروقت سربراہی کو یقینی بنائیں۔ چیف سکریٹری نے شہری اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی سربراہی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اسٹاک کی برقراری اور سلینڈرس کے بروقت ٹرانسپورٹیشن کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی طلب میں اضافہ کا امکان ہے، لہذا عہدیداروں کو ابھی سے ایکشن پلان تیار کرنا چاہئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گھریلو صارفین کی سربراہی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ رام کرشنا راؤ نے پولیس کے ذریعہ ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کی ہدایت دی اور کہا کہ موجودہ حالات میں حکام کو چوکس رہنا چاہئے ۔ تلنگانہ میں ایل پی جی گھریلو کنکشن 1.29 کروڑ ہیں اور صارفین کی ضرورت کے مطابق سلینڈرس کی سربراہی کا موقف قائم ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ہاسپٹلس، سرکاری ہاسٹل اور دیگر سرکاری اداروں کو ایل پی جی کی مناسب سربراہی جاری ہے۔ تیل کمپنیوں کے عہدیداروں نے کہا کہ گھریلو صارفین کو ایل پی جی سربراہی کے سلسلہ میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ عہدیداروں کے مطابق ریاست میں 810 ڈسٹری بیوٹر مراکز کے ذریعہ سلینڈرس کی سربراہی جاری ہے۔ چیف سکریٹری نے مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری محکمہ جات کے ذریعہ بہتر تال میل کو قائم رکھیں اور گھریلو صارفین کی سربراہی میں کوئی خلل نہ ہونے پائیں۔ اجلاس میں ایچ پی سی ایل ، آئی او سی ایل اور بی پی سی ایل کمپنی نمائندوں و کمشنر سیول سپلائیز اسٹیفن رویندرا نے شرکت کی۔ 1