15 لاکھ نئے راشن کاڈرس کا اضافہ، آندھراپردیش میں صرف 102 کارڈس کی منسوخی
حیدرآباد ۔ یکم ؍ اپریل (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر برائے صارفین امور، خوراک اور عوامی تقسیم نیموبین جینتای بھائی بامبھانیا نے بتایا کہ ملک بھر میں غیرقانونی راشن کارڈس کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 41.41 لاکھ جعلی یا خلاف ضابطہ کارڈ منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ اس طرح تلنگانہ میں 1,40,947 لاکھ راشن کارڈس منسوخ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ملک کے مختلف ریاستوں میں منسوخ کردہ راشن کارڈس کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر نے بتایا کہ ملک کی 5.51 لاکھ راشن شاپس میں آدھار یا بائیو میٹرک تصدیق کے آلات نصب کئے گئے ہیں جس کے ذریعہ مستحقین کو شفاف انداز میں اناج کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے اور بے ضابطگیوں کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ فی الحال عوامی تقسیم کے نظام کے ڈیٹا کو دیگر فلاحی اسکیمات سے جوڑنے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی کارڈس کی نشاندہی انکم ٹیکس، ٹرانسپورٹ، قومی شاہراہوں، کارپوریٹ امور اور جی ایس ٹی محکمہ جات کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق سب سے کم آندھراپردیش میں (102) جبکہ سب سے زیادہ راجستھان میں 6 لاکھ سے زائد راشن کارڈس منسوخ کئے گئے۔ دوسری جانب تلنگانہ میں راشن کارڈس کی تعداد میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت کے مقابلے موجودہ حکومت کے دور میں 15 لاکھ سے زائد نئے راشن کارڈس جاری کئے گئیں۔ اس وقت ریاست میں 17,348 راشن شاپس کے ذریعہ ہر ماہ تقریباً 1.05 کروڑ راشن کارڈ ہولڈرس کو راشن فراہم کیا جارہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں 99,36,073 فوڈ سیکوریٹی کارڈس 5,66,660 انیتودیا انا یوجنا کارڈس اور 5,146 اناپورنا کارڈس موجود ہیں۔ اضلاع کے لحاظ سے حیدرآباد میں 936 راشن شاپس کے تحت 8.39 لاکھ راشن کارڈس، ضلع رنگاریڈی کی 588 راشن شاپس کے تحت 6.53 لاکھ راشن کارڈس جبکہ ضلع میڑچل، ملکاجگری کے655 راشن شاپس کے تحت 6.41 لاکھ راشن کارڈس درج ہیں۔2