تلنگانہ میں 14 تا 21 نومبر کانگریس کی پرجا چیتنیہ یاترا

   

9 اور10 نومبر کو قائدین کیلئے اورینٹیشن کیمپ، حضورآباد کا نتیجہ قبول، پولٹیکل افیرس کمیٹی کا اجلاس
حیدرآباد۔/3 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں عوامی مسائل پر 14 نومبر سے ایک ہفتہ طویل پرجا چیتنیہ یاترا کا اعلان کیا ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی پولٹیکل افیرس کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا جس کی صدارت جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور نے کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر اور تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ نے بتایا کہ منڈل اور ضلع سطح کے قائدین کا دو روزہ اورینٹیشن کیمپ 9 اور 10 نومبر کو منعقد ہوگا۔ ایک ہفتہ طویل پرجا چیتنیہ یاترا ریاست بھر میں 14 تا 21 نومبر نکالی جائے گی جس میں تمام قائدین شرکت کریں گے۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ کسانوں، قبائیل کے مسائل کے علاوہ پٹرولیم اشیاء اور اناج کی قیمتوں میں اضافہ پر مرحلہ وار ایجی ٹیشن کیا جائے گا۔ حضورآباد کے نتیجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حضورآباد میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں تھا بلکہ چیف منسٹر کے سی آر اور ایٹالہ راجندر کے درمیان مقابلہ ہوا۔ کے سی آر نے 600 کروڑ خرچ کئے جبکہ ایٹالہ راجندر کی جانب سے 300 کروڑ خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے کے مسئلہ پر دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ عام آدمی کو ان دونوں کے شخصی تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ کانگریس پارٹی حضورآباد کے نتیجہ کو قبول کرتی ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار بی وینکٹ کو محنت کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ مدھو یاشکی نے کانگریس کی جانب سے بی جے پی کی تائید سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی بی جے پی سے مفاہمت نہیں کی ہے۔ مدھو یاشکی کے مطابق مانکیم ٹیگور نے پارٹی قائدین کو میڈیا میں بیان بازی سے گریز کی ہدایت دی ہے۔ اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر شراون نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی انتخابی دھاندلیوں سے متعلق کانگریس کی شکایات پر الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ر