تلنگانہ میں 20 سال پہلے کے سیاسی حالات !

   

طبقات کی بنیاد پر ووٹ مخالفت کی سمت جانے کا امکان
حیدرآباد۔24۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں برسراقتدار بھارت راشٹرسمیتی کی حالت 2004 کے تلگودیشم حکومت کی طرح ہوچکی ہے اور برسراقتدار جماعت کو کسی بھی طبقہ کی تائید حاصل نہیں ہورہی ہے جو کہ ریاستی حکومت کے لئے باعث فکر و تشویش بنتا جا رہا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کئے گئے سروے نے ریاستی حکومت کو تشویش میں مبتلاء کرنے والی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس میں 2004کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی چندربابو نائیڈو حکومت کو جس انداز میں سرکاری ملازمین ‘ طلبہ ‘ نوجوانوں‘ کسانوں‘ مسلمانوں ‘ زرعی مزدوروں اور دلت طبقات کی ناراضگی کا سامنا تھا اسی طرح کے حالات کا سامنا موجودہ بھارت راشٹرسمیتی حکومت کو ہے ۔ خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ عوام میں جو تبدیلی کی لہر دیکھی جا رہی ہے وہ دراصل حکومت کے خلاف نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے طرز کارکردگی کے خلاف ہے۔ 2004 انتخابات سے قبل اس وقت کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو پر ہوئے جان لیوا حملہ کے باوجود انہیں کوئی ہمدردی حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ عوام میں جو لہر پیدا ہوئی تھی اس لہر نے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں کانگریس کو نہ صرف اقتدار حوالہ کیا بلکہ تلگودیشم کی کوششوں پر بھی پانی پھیر دیاتھا۔ 2004 اسمبلی انتخابات سے قبل مسٹر این چندرابابونائیڈو کے خلاف صرف نوجوان‘ طلبہ ‘ کسان ہی نہیں بلکہ ریاست کے دانشور طبقات ‘ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی سماجی جہدکاروں نے بھی باضابطہ مہم شروع کی تھی جس کے نتیجہ میں متحدہ آندھراپردیش کی 294 رکنی اسمبلی میں 185 نشستوں پر کانگریس نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی تھی اور تلگودیشم پارٹی 47 نشستوں پر سمٹ کر رہ گئی تھی ۔ تلگو دیشم پارٹی کو 2004 انتخابات میں 133 نشستوں کا نقصان ہوا تھا جو کہ پارٹی کے لئے ناقابل یقین تھا اور اب یہی صورتحال تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی ہے ۔ انٹلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹ کا باریکی سے مشاہدہ کیا جائے تو ایجنسی کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ 2004میں چیف منسٹر پر جان لیوا حملہ کے باوجود بھی کوئی ہمدردی کی لہر کا فائدہ نہیں ہوا تھا اسی طرح تلنگانہ میں اب کوئی ہمدردی کی لہر کی حکومت کو توقع نہیں کرنی چاہئے ۔ تلنگانہ کی 119 رکنی اسمبلی میں برسر اقتدار جماعت کو 88 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور کانگریس نے 19نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اسی لئے عام طور پر یہ تصورکیا جارہا تھا کہ برسراقتدار جماعت کی نشستوں میں کمی آتی ہے تو ایسی صورت میں بھی 20 سے زائد نشستوں کا نقصان نہیں ہوگا لیکن زمینی سطح پر اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہری علاقوں میں برسراقتدار پارٹی کو کسی قدرعوامی حمایت حاصل ہے جبکہ دیہی علاقوں اور اضلاع کے علاوہ شہر کے مضافات میں بھی بھارت راشٹرسمیتی کو شدید عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں2018 انتخابات کے بعد 88 ارکان اسمبلی کے ساتھ پہنچنے والے کے چندرشیکھر راؤ کی نشستوں کی تعداد نصف سے بھی زیادہ گھٹ سکتی ہے اور ایسا ہونا کوئی عجب بات نہیں ہے کیونکہ اگر اندرون 20سال انتخابات کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو 2004 اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے والی اس وقت کی تلنگانہ راشٹرسمیتی نے 26 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور برسراقتدار تلگودیشم پارٹی کو 133 نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ کانگریس نے 185 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی نشستوں میں 94 نشستوں کا اضافہ یقینی بنایا تھا ۔2004اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے اساس پر ووٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ تلگو دیشم پارٹی کو 2004 انتخابات میں مجموعی اعتبار سے محض 6.28 فیصد ووٹ سے محروم ہونا پڑا تھا اور کانگریس کے ووٹ شئیر میں محض2.95 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اس اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو تلنگانہ میں اگر برسراقتدار جماعت کو 5تا7 فیصد ووٹ سے محروم ہونے کی صورت میں نصف سے زیادہ نشستوں سے محروم ہونا پڑسکتا ہے جبکہ کانگریس کے ووٹ شئیر میں 2تا3 فیصد کا بھی اگر اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں کانگریس کی نشستوں میں 40 سے زائد نشستوں کا اضافہ ہوگا۔ 2004 اسمبلی انتخابات سے قبل جو ماحول ریاست میں دیکھا جارہا تھا وہی ماحول اب تلنگانہ میں بنا ہوا ہے کیونکہ ریاست کی جامعات‘ سرکاری ملازمین ‘ اساتذہ ‘آنگن واڑی ورکرس‘ محکمہ صحت‘ محکمہ بلدی نظم ونسق کے ملازمین کے علاوہ کنٹراکٹ ملازمین‘ عارضی ملازمین ‘ دانشوروں‘ وکلاء برادری ہی نہیں بلکہ تمام طبقات میں اسی طرح کی ناراضگی پائی جا رہی ہے جس طرح کی ناراضگی 2004 انتخابات سے قبل اس وقت کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے خلاف دیکھی جا رہی تھی ۔