نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح، حضور نگر میں اتم کمار ریڈی نے نئے آئی ٹی آئی کا سنگ بنیاد رکھا
حیدرآباد۔/19 جون، ( سیاست نیوز) وزیر سیول سپلائیز و آبپاشی این اتم کمار ریڈی نے عہد کا اظہار کیا کہ کانگریس حکومت اِسکل ڈیولپمنٹ اور ٹریننگ کے ذریعہ تلنگانہ میں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کی مساعی کرے گی۔ اتم کمار ریڈی نے حضور نگر میں نئے انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ( آئی ٹی آئی ) کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے حکومت اِسکل ڈیولپمنٹ کو عصری کورسیس سے ہم آہنگ کررہی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ حکومت روزگار کے مواقع پیش نظر رکھتے ہوئے ووکیشنل ٹریننگ کیلئے جامع منصوبہ تیار کررہی ہے۔ حضور نگر میں 40 کروڑ کے صرفہ سے نیا آئی ٹی آئی کالج قائم کیا جارہا ہے جس میں عصری کورسیس کی تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اِسکل ڈیولپمنٹ میں آئی ٹی آئی اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ 1950 میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک میں پہلا آئی ٹی آئی قائم کیا تھا اور آج ملک بھر میں 13348 آئی ٹی آئی موجود ہیں جو 1.9 ملین نوجوانوں کو 126 کورسیس میں تربیت دے رہے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ میں سرکاری سطح پر 63 اور خانگی شعبہ میں 212 آئی ٹی آئی موجود ہیں اور یہ تمام نیشنل کونسل فار ووکیشنل ٹریننگ سے مسلمہ ہیں۔ ان اداروں میں انجینئرنگ اور نان انجینئرنگ کے مختلف ٹریڈس میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے سابق بی آر ایس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کے حصول کے مقاصد سے انحراف کرلیا گیا۔ پانی، روزگار اور وسائل کیلئے تلنگانہ جدوجہد کی گئی تھی لیکن برسراقتدار آنے کے بعد بی آر ایس حکومت نے مقاصد کو فراموش کردیا۔ اتم کمار ریڈی کے مطابق بی آر ایس حکومت نے آئی ٹی آئی طلبہ پر ماہانہ محض 16 روپئے پر خرچ کئے جبکہ مرکزی ادارہ نے 400 روپئے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں آئی ٹی آئی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ کانگریس حکومت سرکاری آئی ٹی آئی اداروں کو اَپ گریڈ کرتے ہوئے اڈوانسڈ ٹریننگ سنٹرس میں تبدیل کررہی ہے جس پر 2324 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ ٹاٹا ٹکنالوجیز کے اشتراک سے آئی ٹی آئیز کو عصری کورسیس سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 9 ہزار طلبہ کو داخلے دیئے جائیں گے۔ اتم کمار ریڈی نے مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ کے رگھوویر ریڈی اور دوسرے موجود تھے۔1