سہ رکنی کمیٹی کی چونکا دینے والی رپورٹ ۔ سرکاری خزانہ کو 15 ہزار کروڑ کا نقصان ، سرکاری فنڈز کی بندربانٹ بے نقاب
حیدرآباد17اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ایک اور بدعنوانی کا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے ۔ بی آر ایس کے 10سالہ دور حکومت میں مختلف سرکاری محکمہ جات میں تقریباً ایک لاکھ بوگس ( فرضی) ملازمین کی نشاندہی کی گئی ، جن کے نام پر 15 ہزار کروڑ روپئے کی خطیر رقم غیرقانونی طور پر نکالی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ فینانس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی ابتدائی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ۔ کئی محکموں میں ایسے ملازمین درج ہیں جو عملاً موجود نہیں ہیں مگر ان کے نام پر ہر ماہ سرکاری خزانے سے لاکھوں روپئے تنخواہ نکالی جارہی ہے ۔ اس طرح سالانہ 1500کروڑ روپئے نکالے گئے جس سے حکومت کو 10 سال میں 15 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جعلسازی منظم نیٹ ورک کے ذریعہ انجام دی گئی جس میں چند سیاسی قائدین اور کچھ اعلیٰ عہدیدار بھی مبینہ طور پر ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد حکومت نے مختلف محکمہ جات میں برسرکار آوٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کے ڈیٹا کی دوبارہ جانچ شروع کی اور فرضی ملازمین کے تنخواہیں ماہ اکٹوبر سے روک دینے کا فیصلہ کیا ۔ ذرائع کے بموجب سابق چیف سکریٹری شانتی کماری کی قیادت میں تشکیل دی گئی سہ رکنی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے ۔ ریاست کے مختلف محکمہ جات میں 4 لاکھ آوٹ سورسنگ ملازمین درج ہیں جن میں صرف 2لاکھ ملازمین حقیقی طور پر کام کررہے ہیں ، باقی لاکھوں کے نام جعلی یا غیر فعال پائے گئے ہیں ۔ سہ رکنی کمیٹی کی میعاد 30 ستمبر کو ختم ہوگئی اس کو 25 اکٹوبر تک دوبارہ توسیع دی گئی ۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ چند سیاسی قائدین و عہدیداروں نے فرضی آوٹ سورسنگ ایجنسیاں و کنٹراکٹ پاور کمپنیاں قائم کیں جنہوں نے سرکاری تنخواہوں کا نظام اپنے قبضے میں لے رکھا ہے جس کے نتیجہ میں بوگس ملازمین کے نام پر ہر ماہ کروڑہا روپئے نکالے گئے ۔ اس سنگین انکشاف کے بعدحکومت نے اکٹوبر سے مشکوک اور بوگس ملازمین کی تنخواہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تمام محکمہ جات کو ہدایت دی گئی کہ وہ ملازمین کے ریکارڈ کی از سرنو تصدیق کریں ۔ امکان ہے کہ آئندہ رپورٹ میں کئی بااثر افراد کے نام سامنے آئیں گے جنہوں نے آؤٹ سورسنگ کے نام پر سرکاری فنڈز کی لوٹ مچائی ہے ۔2