تلنگانہ میں 6 نومبر سے ذات پات پر مبنی سروے کا آغاز

   

حکومت نے 7 صفحات پر مشتمل سوالنامہ جاری کیا، 75 سوالات ذاتی اور خاندانی تفصیلات کے ہوں گے
آدھار کارڈ لازمی نہیں، تحفظات ، فلاحی اسکیمات سے استفادہ، سیاسی پس منظر کی تفصیلات جمع کی جائیں گی

حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) باوقار ذات پات سروے کا 6 نومبر سے آغاز ہوگا ۔ حکومت نے اس سروے سے متعلق ایک سوالنامہ جاری کیا ہے جو 75 سوالات پر مشتمل ہے ۔ 56 اہم سوالات کے ساتھ 19 ضمنی سوالات کو قطعیت دی گئی ہے ۔ پارٹ I میں صدر خاندان اور خاندان کے دیگر افراد کی ذاتی تفصیلات سے متعلق 58 سوالات ہیں۔ پارٹ II میں خاندان کی تفصیلات سے متعلق 17 سوالات ہیں جملہ 7 صفحات کی خانہ پوری کرنی ہوگی ۔ صدر خاندان کے علاوہ خاندان کے تمام افراد کی ذاتی تفصیلات جمع کی جائیں گی ۔ پارٹ I کے تحت ذاتی تفصیلات میں مذہب ، سماجی طبقہ ، ذات پات ، مادری زبان کے ساتھ ذیلی ذات ، ازدواجی حیثیت ، اسکول کے اقسام ، تعلیمی قابلیت، ملازمت، روزگار ، ذات کا پیشہ ، سالانہ آمدنی ، آئی ٹی ریٹرن ، غیر منقولہ جائیداد، دھرانی پاس بک نمبر ، تحفظات سے اٹھائے گئے فائدے ، گزشتہ پانچ سال میں حکومت سے فائدہ اٹھانے والی فلاحی اسکیمات کے نام ، سیاسی پس منظر ، نقل مکانی کی تفصیلات جمع کی جائیں گی ۔ خاندان کی تفصیلات پارٹ II میں درج کی جائیں گی ۔ اس میں گزشتہ 5 سال کے دوران حاصل کردہ قرض کی تفصیلات ، مویشی ، غیر منقولہ جائیداد ، وراثت ، راشن کارڈ نمبر ، رہائشی مکان کی قسم ، بیت الخلاء اور گیس کنکشن کی تفصیلات دینا ہوگا ۔ واضح کیا گیا ہے کہ آدھار کارڈ کی تفصیلات لازمی نہیں ہے ۔ کے سی آر حکومت نے 19 اگست 2014 کو ایک جامع خاندانی سروے کے ذریعہ ریاست کے ایک کروڑ مکانات 3.68 کروڑ آبادی سے متعلق معاشی اور سماجی تفصیلات اکٹھا کی تھیں۔ 10 سال قبل کرائے گئے سروے میں 8 موضوعات سے متعلق 94 سوالات کے جوابات جمع کئے گئے ۔ اس وقت کے مقابلہ میں ذات پات کے سروے میں تقریباً 90 فیصد سوالات دہرائے گئے ہیں جبکہ اس وقت خاندان کے افراد کی تفصیلات تھی ۔ اب ذات سے متعلق اضافی سوالات ہیں پہلے آدھار کی تفصیلات کے اندراج کو لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن اب یہ اختیاری ہے ۔ 2