پہلے ہی دن 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے احکامات ، کے سی آر پر دروغ گوئی کا الزام ، ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک کی میڈیا نمائندوں سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں صرف کانگریس کی لہر ہے ۔ کے سی آر خاندان کو گھر واپس بھیجوانے کا وقت آگیا ہے ۔ 9 دسمبر کو ریاست میں کانگریس حکومت قائم ہوگی اور نئی کابینہ کے اجلاس میں ان فائیلوں پر دستخطیں کی جائیں گی جو کانگریس کے عوام سے کیے گئے وعدوں سے متعلق ہوگی یعنی کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے جن 6 ضمانتوں کا وعدہ کیا ہے ۔ ان ضمانتوں کو ہر حال میں پورا کیا جائے گا ۔ کانگریس بلالحاظ مذہب و ملت عوام کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے اور جہاں تک چیف منسٹر کے سی آر کا سوال ہے وہ دروغ گو ہیں یہ کانگریسی قائدین نہیں بلکہ خود وزیراعظم نریندر مودی نے کے سی آر کو سرٹیفیکٹ دیا ہے ۔ حالانکہ بی آر ایس ، بی جے پی کی بی ٹیم ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کرناٹک کے ڈپٹی چیف مسٹر ڈی کے شیوکمار نے میڈیا کے چنندہ نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا ۔ نمائندہ سیاست کے اس سوال پر کہ آپ (شیوکمار ) پختہ یقین کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ کانگریس ریاست میں حکومت تشکیل دے گی ۔ ایسے میں کیا ایک بی سی کو چیف منسٹر اور ایک مسلم کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا جائے گا ؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس کوئی علاقائی پارٹی نہیں بلکہ قومی پارٹی ہے جو بھی فیصلہ ہوگا اجتماعی ہوگا ۔ کانگریس کی اپنی پالیسی ہے ۔ ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے گا اور پھر پارٹی ہائی کمان قومی اور ریاستی مفاد میں فیصلہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کا انتخاب کرے گی ۔ اس سوال پر راہول گاندھی ذات پات پر مردم شماری کے حق میں ہیں لیکن یہ رپورٹیں بھی ہیں کہ آپ اس کے مخالف ہیں ۔ آخر کیوں ؟ کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت جس معاملہ میں پابند عہد ہوگی ہم بھی اس کے لیے پابند عہد ہیں ۔ ویسے بھی ہم نے ریاست میں عوام کا سماجی اقتصادی بنیاد پر سروے کروایا ہے اس کمیشن کے سکریٹری نے سروے رپورٹ پر دستخط نہیں کئے چونکہ وہ سرکاری دستاویز ہے اس لیے میرا خیال تھا کہ اس پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کانگریس قیادت کے ویژن میں پورا یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں کرناٹک کے کانگریسی قائدین کے سرگرم ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں پر زور انداز میں کہا کہ کانگریس چونکہ ایک قومی پارٹی ہے ۔ کشمیر سے کنہیا کماری تک اپنا اثر رکھتی ہے ۔ ملک کی سب سے قدیم جماعت ہے اس ملک کی تاریخ دراصل کانگریس کی تاریخ ہے ۔ کانگریس کا استحکام ملک کا استحکام ہے ۔ ایسے میں کرناٹک کے کانگریسی قائدین اور ورکرس تلنگانہ میں کانگریس کی مدد کے لیے آتے ہیں اور ہمیں عوام کا مثالی حوصلہ ردعمل حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام اب اچھی طرح جان چکے ہیں کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل دراصل سونیا گاندھی نے اور یو پی اے حکومت نے دی اور کے سی آر نے اس کا کریڈٹ لے لیا ۔ حالانکہ علحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل دیتے ہوئے سونیا گاندھی نے اپنے اقتدار کی بھی پرواہ نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو تلنگانہ کے لیے قربان کردیا ۔ یہاں تک کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ وہ ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کردیں گے ۔ لیکن وہ اپنے عدوں سے اسی طرح منحرف ہوگئے جس طرح آج انہوں نے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو فراموش کردیا ۔ کانگریس کے مرد بحران کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے ڈی کے شیوکمار نے مزید کہا کہ کانگریس اور کانگریس کی قیادت جو کہتی ہے وہ کرتی ہے جو وعدے کرتی ہے ان کی تکمیل کرتی ہے ۔ ہم ریاست تلنگانہ میں بھی کرناٹک ماڈل پر عمل آوری کو یقینی بنائیں گے ۔ کسان ، خواتین ، طلبہ ، غریب خاندانوں ، اقلیتوں کی بہبود کے لیے اقدامات کرنا ہمارا وعدہ ہے ۔ کرناٹک کی طرح یہاں کی خواتین کو مالی امداد فراہم کی جائے گی ۔ بسوں میں مفت سفر کی سہولت ہوگی ۔ طلبہ کی مالی امداد کی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور کے سی آر خاندان کو فارم ہاوز تک محدود کرنے کے خواہاں ہے ۔ مسٹر ڈی کے شیوکمار کا یہ بھی کہنا تھا کہ راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ عوام کے دلوں کو جوڑا ہے اور جوڑنا ہی کانگریس کی پالیسی ہے ۔۔