فرضی اور ڈبل ناموں پر نظر، 18 لاکھ نام ایک سے زائد مقامات پر ہونے کی نشاندہی ، ایس آئی آر پر تلنگانہ میں سیاسی تنازعہ
حیدرآباد ۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک میں فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی کے تیسرے مرحلہ کے تحت تلنگانہ اور آندھراپردیش کا احاطہ کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آندھراپردیش کی تقسیم اور دو ریاستوں کی تشکیل کے نتیجہ میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے ذریعہ ایک سے زائد مقامات پر موجود ناموں کو حذف کرنے میں یہ مہم مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے حیدرآباد اور دیگر اضلاع کی فہرست رائے دہندگان میں بڑی تعداد میں بوگس ناموں کی موجودگی سے متعلق شکایتوں کے پس منظر میں تلنگانہ میں تیسرے مرحلہ میں SIR کے انعقاد کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹیٹ الیکٹورل آفس کے عہدیداروں کو SIR کی تیاریوں میں جٹ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ملک میں دوسرے مرحلہ کے تحت 12 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا عمل آخر مراحل میں ہے۔ تیسرے مرحلہ کے SIR کے تحت جن ریاستوں کو شامل کیا جائے گا ، ان میں تلنگانہ اور آندھر اپردیش رہیں گے۔ چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار نے حال ہی میں دورہ حیدرآباد کے موقع پر تلنگانہ میں عنقریب SIR کا اعلان کیا تھا۔ متحدہ آندھراپردیش میں 2002 میں آخری مرتبہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کرتے ہوئے فرضی اور بوگس ناموں کو حذف کیا گیا تھا۔ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن تلنگانہ اور آندھراپردیش کی فہرست رائے دہندگان کو درست بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف الیکٹورل آفیسر کے ذریعہ ایس آئی آر کی تیاریوں کے سلسلہ میں درکار بوتھ لیول آفیسرس اور نگرانکار آفیسرس کی تعداد کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر کے سلسلہ میں ٹیچرس کو بوتھ لیول آفیسرس مقرر کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول کی اجرائی کے بعد تلنگانہ میں ایس آئی آر پر سیاسی تنازعہ یقینی ہے۔ کانگریس پارٹی کا قومی سطح پر موقف ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعہ کمزور طبقات اور اقلیتوں کے علاوہ مخالف بی جے پی ووٹرس کے نام حذف کرنے کی سازش ہے۔ ایسے میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایس آئی آر کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن کو مکمل مدد فراہم کرنے کے سلسلہ میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2002 میں آخری مرتبہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے بعد تقریباً 30 فیصد رائے دہندے اپنے دیئے گئے ایڈریس پر دستیاب نہیں ہیں۔ یا تو وہ آندھراپردیش منتقل ہوگئے یا پھر تلنگانہ میں اپنی سکونت کو تبدیل کردیا ہے ۔ ریاست میں جملہ 33 اضلاع ، 76 ریونیو ڈیویژن ، 620 منڈلس، 13 کارپوریشن، 10434 ریونیو ولیجس اور 12769 گرام پنچایت ہیں۔ تلنگانہ میں 83.04 لاکھ خاندان ہیں اور SIR کے ذریع ان کے ناموں کی جانچ کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے لئے 11 مختلف دستاویزات کی نشاندہی کی ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق 18.50 لاکھ رائے دہندے ایسے ہیں جو اپنے مقام سے ہٹ کر دوسرے علاقہ میں ووٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے رائے دہندوں کے ڈبل ناموں کو فہرست سے حذف کرنے میں مدد ملے گی۔ الیکشن کمیشن اگرچہ شفافیت کے ساتھ SIR کے مرحلہ کی تکمیل کا دعویٰ کر رہا ہے لیکن تلنگانہ میں یہ کام الیکشن کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔1
