تنخواہوں کی اجرائی کیلئے صدرنشین بورڈ کی دستخط سے استثنیٰ، سی ای او اور اسسٹنٹ سکریٹری بورڈ کی دستخط کو منظوری
حیدرآباد۔10جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی بیجا مداخلت حد سے تجاوز کرچکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب حکومت تلنگانہ بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے پاس منتخبہ بورڈ کی کوئی وقعت نہیں ہے اور وہ عہدیداروں کی من مانی کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اپنے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایسی غیر قانونی ہدایات کی اجرائی شروع کردی ہے جو کہ عہدیداروں کو قانونی کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کے لئے کافی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ وقف بورڈ کے چیف اکزیکٹیو آفیسر کو اسسٹنٹ سیکریٹری کے ساتھ مشترکہ دستخط کا اختیار دینے کے سلسلہ میمو جاری کیا ہے جو کہ بورڈ کی موجودگی میں صریح طور پر غیر قانونی اقدام ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی موجودگی میں صدرنشین کے ساتھ سی ای او کی مشترکہ دستخط کے ساتھ تنخواہوں کی اجرائی کے علاوہ قانونی کاروائیوں کا ہونا لازمی ہے لیکن اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ نے جو غیر قانونی میمو جاری کیا ہے اس میں تنخواہوں اور قانونی کاروائیوں کے لئے صدرنشین کی دستخط سے استثنیٰ دیتے ہوئے چیف اکزیکٹیو آفیسر اور ایک اسسٹنٹ سیکریٹری وقف بورڈ کی دستخط کو منظوری دینے کی ہدایت جاری کی ہیں جو کہ قوانین کی صریح خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ تلنگانہ وقف بورڈ میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ روزنامہ سیاست نے سجاد علی کو ان کی معیاد کے آخری ایام کے دوران تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر سیکریٹری کے عہدہ کی اضافی ذمہ داری دیئے جانے پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے خبر شائع کی تھی کہ اردواکیڈیمی میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کے لئے سجاد علی کو ان کے وظیفہ پر سبکدوشی سے قبل یہ ذمہ داری دی گئی ہے اور ہوا بھی وہی تھا اور سجاد علی پر محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور ان کے ماتحت افراد نے دباؤ ڈالتے ہوئے غیر قانونی طور پر 19 ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے احکامات جاری کروائے تھے جنہیں محکمہ فینانس کی مداخلت کے بعد کالعدم قرار دیتے ہوئے سجاد علی کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔ اسی طرح اب تلنگانہ وقف بورڈ میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی راہ ہموار کرنے کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری عہدیدار صدرنشین وقف بورڈ اور تلنگانہ وقف بورڈ کے اراکین کو اپنی دھاندلیوں کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہوئے قانونی امور اور تنخواہوں کی اجرائی کے معاملہ میں صدرنشین کی دستخط سے مستثنیٰ قرار دینے کی ہدایات جاری کرچکے ہیں۔3
ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ سیکریٹری اوربورڈ کے دیگر سرکردہ عہدیداروں نے جو بورڈ کے امور او ر قوانین سے واقف ہیں نے ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس میمو کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان احکامات پر شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دنوں محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار نے جو میمو جاری کیا ہے اس میمو کو ماہرین قوانین وقف نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کیا جانے والا یہ میمو ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے جاری کئے جانے والے احکامات کے مترادف ہے اور اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیوں محکمہ اقلیتی بہبود قانونی امور اور تنخواہوں کی اجرائی کے معاملہ میں صدرنشین کے اختیارات کو اسسٹنٹ سیکریٹری کے حوالہ کرتے ہوئے اسی ای او کے ساتھ مشترکہ دستخط کا مجاز قرار دینے کی کوشش میں ہے جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ میں موجود سی ای او محمد اسداللہ (انچارج) سی ای او ہیں اور وہ اضافی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں اور وہ محکمہ اقلیتی بہبود میں وقف سروے کمشنر کے عہدہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ وقف ایکٹ 2025کے مطابق عہدہ ہی نہیں ہے۔3