8 ارکان کو دعوت نامے، تین نشستیں مخلوعہ
حیدرآباد۔21 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ اور حکومت کی اجازت کے بعد آخرکار تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس 29 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ میں صدرنشین اور بعض ارکان کی رکنیت کے بارے میں مقدمہ کے سبب اجلاس کی طلبی تعطل کا شکار تھی۔ حالیہ عرصہ میں ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ مقدمہ سے اجلاس کی طلبی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور حکام اجلاس طلب کرنے کے مجاز ہیں۔ اسی دوران وقف بورڈ نے حکومت سے اس سلسلہ میں اجازت طلب کی ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اجئے مشرا نے اجلاس طلب کرنے کی اجازت دی جس کے بعد 29 اکتوبر کی تاریخ طئے کی گئی ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بورڈ کے اجلاس کی طلبی میں خصوصی دلچسپی لی ہے کیونکہ جاریہ سال صرف دو مرتبہ بورڈ کا اجلاس ہوا جس کے نتیجہ میں بورڈ کے کئی اہم کام زیر التواء ہیں ۔ وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اہم فیصلوں کیلئے بورڈ کا اجلاس ضروری تھا ۔ واضح رہے کہ بورڈ میں تین ارکان کی نشستیں مخلوعہ ہیں اور اجلاس میں شرکت کیلئے 8 ارکان کو دعوت نامے روانہ کئے گئے ۔ رکن پارلیمنٹ ، رکن اسمبلی اور بار کونسل رکن زمرہ کی نشستیں مخلوعہ ہیں جنہیں پر کرنے کیلئے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سکریٹری اقلیتی بہبود سے نمائندگی کی گئی ہے۔ اجلاس کے ایجنڈہ کو اندرون دو یوم قطعیت دے دی جائے گی ۔ واضح رہے کہ صدرنشین کے عہدہ پر محمد سلیم کی برقراری کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا جس میں حکومت کی جانب سے صدرنشین کے عہدہ پر محمد سلیم کی برقراری کا دفاع کیا گیا۔ فاضل جج نے فریقین کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ توقع ہے کہ 29 اکتوبر کا اجلاس اہمیت کا حامل رہے گا اور کئی زیر التواء اہم امور کی یکسوئی کی جائے گی۔