بورڈ کا ماہانہ اور ذیلی کمیٹیوں کے اجلاس نظر انداز ، پروسیڈنگس کی عدم اجرائی
حیدرآباد۔2۔ جون۔(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کے ذمہ داروں کی جانب سے کئے گئے اعلانات پر عمل آوری وقت معینہ پر نہ ہونا معمول بن چکا ہے اور تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی حالت زار بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ 6اپریل کو ماہ رمضان المبارک کے دوران منعقدہ وقف بورڈ کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ بورڈ کا ماہانہ کم از کم ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا اور ہر ماہ بورڈ کی دو ذیلی کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرتے ہوئے زیرالتواء امور کو حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن اس اعلان کے بعد سے اس معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور نہ ہی 6اپریل کو ہوئے بورڈ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی پروسیڈنگ جاری کی گئی ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وقف بورڈ کے اجلاس میں دی گئی منظوریوں کے پروسیڈنگ کی اجرائی کے سلسلہ میں کئی ارکان نے عہدیداروں کو متوجہ کروایا ہے لیکن اس کے باوجوداحکامات کی اجرائی کے معاملہ کو نظرانداز کیا جا رہاہے ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں اراکین نے جو فیصلہ کیا تھا کہ وہ ماہانہ کم از کم ایک اجلاس منعقد کریں گے اس پر بھی وہ قائم نہیں رہ پائے جبکہ اس اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں انہیں کسی عہدیدار یا محکمہ اقلیتی بہبود سے اجازت کے حصول کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بورڈ کے ذمہ داروں کی عدم دلچسپی کے باعث نہ بورڈ کا اجلاس منعقد کیاگیا ہے اور نہ ہی ذیلی کمیٹیوں کا اجلاس منعقد کرنے کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ 6 اپریل کے اجلاس میں انتظامی ذیلی کمیٹی اور تولیت کمیٹی اور اندرون 15یوم قانونی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیاگیا تھا ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ اجلاس کے پروسیڈنگ جاری نہ کئے جانے کے سبب ذیلی کمیٹی اور بورڈ کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ اجلاس کے دوران کئے گئے فیصلوں کے احکامات کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے سبب اب تک 50 فیصد بھی احکام جاری نہیں کئے جاسکے ہیں جبکہ بورڈ کی منظوری کے بعد اس طرح پروسیڈنگس کو روکا جانا وقف ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے کیونکہ بورڈ کی منظوری کے بعد بغیر کسی اعتراض کے کسی بھی فیصلہ پر عمل آوری کو روکنے کا عہدیدارو ںکو اختیار حاصل نہیں ہے لیکن بورڈ کے فیصلوں پر عمل آوری کے ذریعہ معاملات کو عدالتی رسہ کشی کا شکار کرنے کی راہ ہموار کی جانے لگی ہے۔م