تلنگانہ وقف بورڈ کے اجلاس میں عہدیداروں کی رکاوٹ

   

اہم امور التواء کا شکار ، سابق اسٹانڈنگ کونسل کے خلاف کارروائی ، وکیل کی فیس باقی ، فائیلوں کی واپسی میں رکاوٹ
حیدرآباد۔ 24اپریل(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے فوری طور پر اجلاس منعقد کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کا اجلاس منعقد ہوئے 6 ماہ سے زیادہ کا وقفہ گذر چکا ہے جس کے نتیجہ میں کئی اہم امور زیر التواء ہیں ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کا اجلاس اکٹوبر 2024میں منعقد ہوا تھا اور اس کے بعد سے اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا جو کہ وقف بورڈ میں موجود عہدیداروں پر دباؤ کا ثبوت ہے۔ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کے اہم عہدوں پر فائز عہدیدارجو کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں مداخلت بیجا کے مرتکب بن رہے ہیں وہ دراصل نہیں چاہتے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور اسی لئے وہ بورڈ کے اراکین کو بھی بالواسطہ طور پر خوفزدہ کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ وقف بورڈ میں خدمات انجام دے رہے عہدیدار اعلیٰ عہدوں پر فائز ذمہ داروں کی جانب سے موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہوئے وقف بورڈ کے محض ان امور کی ہی یکسوئی کر رہے ہیں جن امور سے ان ذمہ داروں کو دلچسپی ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں نااہلی کے اعتراف کے بعد کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے وقف قوانین پر ترمیم پر ہنگامہ کرنے والوں کو اس بات پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بور ڈ میں موجودہ وقف قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف اجلاس کے انعقاد سے گریز کیاجا رہا ہے بلکہ عہدیداروں پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں قوانین کے مطابق کاروائی کرنے سے گریز کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ وقف بورڈ کے اجلاس کے عدم انعقاد کے سبب زیر التواء مسائل کو حل کرنے میں ہونے والی دشواریوں کا یہ سلسلہ اگر فوری اجلاس منعقد کرتے ہوئے ان مسائل کی یکسوئی کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد میں مزید 2ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ آئندہ ماہ حج ہاؤز کی عمارت میں عازمین حج کی روانگی کی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی اور ان سرگرمیوں کے دوران وقف بورڈ کی جانب سے اجلاس منعقد کرنے سے حج کیمپ کا بہانہ کرتے ہوئے گریز کیا جائے گا اور اس طرح وقف بورڈ کا اجلاس عیدالاضحی کے بعد ہی منعقد ہوگا اسی لئے عہدیداروں کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اجلاس منعقد کرنے کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کریں کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ واقعی خودمختار ادارہ ہے اور بورڈ اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا متحمل ہے۔ وقف بورڈ جو کہ سابق اسٹینڈنگ کونسل کے خلاف کاروائی کا آغاز کرچکا ہے لیکن مذکورہ وکیل کے پاس موجود فائیلیں منگوانے سے اب بھی قاصر ہے۔سابق اسٹینڈنگ کونسل وقف بورڈ جن کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے کا کہناہے کہ وقف بورڈ مقدمات کی پیروی کے سلسلہ میں ان کی فیس باقی ہے اسی لئے وہ فائیلیں واپس نہیں کر رہے ہیں اور اگر ان کے خلاف کسی طرح کی کاروائی کی جاتی ہے تو وہ ان تمام افراد کے ناموں کا انکشاف کردیں گے جو موقوفہ جائیدادوں کی دھاندلیوں میں ملوث ہیں۔3