ریکارڈ سیکشن بند رہنے سے بورڈ کو نقصان ، چیف منسٹر کے سی آر کو مولانا ابوالفتح سید بندگی پاشاہ قادری کا مکتوب
حیدرآباد۔14۔ستمبر(سیاست نیوز ) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کی فوری کشادگی کے اقدامات کرتے ہوئے دھرانی پورٹل پر وقف جائیدادوں کے اندراج کے ذریعہ انہیں بچانے کے اقدامات کریں۔ مولانا ابوالفتح سید بندگی پاشاہ قادری رکن تلنگانہ وقف بورڈ نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو روانہ کردہ مکتوب میں ریکارڈ سیکشن کو مہربند رکھے جانے کے سبب ہونے والی تکالیف سے واقف کرواتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں فوری طور پر احکامات جاری کریں ۔ انہوں نے مکتوب میں بتایا کہ ریاستی وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مقفل رکھے جانے کے سبب تلنگانہ کے محکمہ مال کے دستاویزات اور وقف بورڈ کے دستاویزات کی تنقیح کے ذریعہ اوقافی اراضیات کی نشاندہی کا عمل مکمل نہیں ہوپایا ہے اس کے علاوہ ریکارڈ سیکشن بند ہونے کے سبب ریاست کی مختلف عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں دستاویزات پیش کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔ مولانا ابوالفتح سید بندگی پاشاہ نے اپنے مکتوب میں چیف منسٹر کو عدالت میں زیر دوراں مقدمات بالخصوص محکمہ جاتی سطح پر جاری مقدمات کی صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہربند کئے جانے پر کوئی شبہات نہیں ہیں لیکن 2018 سے اب تک وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہر بند رکھے جانے کے باعث عدالت میں زیر دوراں مقدمات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وکلاء اپنے ریکارڈس پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ رکن بورڈ نے بتایا کہ حکومت نے تشکیل تلنگانہ کے بعد صیانت اوقاف کے علاوہ ریاست کے تمام اراضیات کو نزاعات سے پاک بنانے کے اقدامات کے تحت دھرانی پورٹل کا آغاز کیا لیکن دھرانی میں اوقافی اراضیات کے رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ مال کے دستاویزات سے وقف بورڈ کے دستاویزات کو ہم آہنگ کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ 1954 سے قبل ہندو انڈو منٹ اور مسلم اوقاف دونوں ہی مذہبی امور کے تحت ہوا کرتے تھے اور امور مذہبی کے بعد جب وقف بورڈ کی تشکیل عمل میں لائی گئی لیکن ریکارڈس کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جانے ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ وقف سروے کے دوران ایسی کئی جائیدادوں کی نشاندہی عمل میں لائی گئی جو کہ ’’سرکاری ‘‘ کے طور پر درج ہیں حالانکہ وہ ’’اوقافی ‘‘ اراضیات ہیں ۔ مولانا ابولفتح سید بندگی پاشاہ نے بتایا کہ نظام دور حکومت میں اوقافی جائیدادیں جو سرکاری زیر انتظام تھیں انہیں سرکاری زمرہ میں شمار کیا جاتا تھا لیکن اس لفظ سرکاری کا اب جو ترجمہ کیا جا رہاہے اس میں ان جائیدادوں کو حکومت کی قرار دیا جا رہاہے جو کہ سرکاری طور پر وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اسی لئے حکومت کو فوری طور پر ریکارڈ سیکشن کی کشادگی کے اقدامات کے ذریعہ محکمہ مال اور اوقاف کے ریکارڈس کی تنقیح کے ذریعہ انہیں محفوظ کرنے اور دھرانی میں اوقافی جائیدادوں کے اندراج کے ذریعہ قابضین سے بچانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے وقف سروے کے بعد جاری کئے جانے والے گزٹس کو کئے جانے والے چیالنج اور ان گزٹ کو حکومت کی جانب سے رد کروائے جانے کے معاملہ میں بھی رکن وقف بورڈ نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ریکارڈس کی تنقیح کرتے ہوئے انہیں بہتر بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ وقف بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ کے ذریعہ ریاست کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔م