سیاسی فائدہ کیلئے بھگوان کا استعمال، بی سی تحفظات بل کی تائید کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اگست (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے بی جے پی بھگوان کا نام استعمال کرتی ہے۔ سیاسی فائدہ کیلئے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنا بی جے پی کی عادت بن چکی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے بنڈی سنجے کی جانب سے صدر پردیش کانگریس کے خلاف بیان بازی کی مذمت کی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا تھا کہ تلنگانہ میں ووٹ چوری کے ذریعہ بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ پونم پربھاکر نے بنڈی سنجے کو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہو تو وہ ووٹ چوری معاملہ کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کریں۔ پونم پربھاکر نے حکومت اور پردیش کانگریس کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں ووٹ چوری معاملہ کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے پسماندہ طبقات کو تعلیم اور روزگار میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پونم پربھاکر نے ووٹ چوری سے متعلق مہیش کمار گوڑ کے بیان کی تائید کی اور کہا کہ اگر بی جے پی قائدین میں ہمت ہو تو وہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ تحقیقات کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر میں ایک گھر میں 40 ووٹ پائے گئے اور یہ تمام ہندو رائے دہندے ہیں۔ بنڈی سنجے کی کامیابی ووٹ چوری کے ذریعہ ہوئی ہے۔ متحدہ کریم نگر ضلع میں ووٹ چوری معاملات کی جانچ کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے نمائندگی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن آتے ہی بی جے پی کو بھگوانوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ بی سی تحفظات کے لئے حکومت کی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ بی سی تحفظات کیلئے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ خاموش ہیں۔ اسمبلی میں تحفظات بل کی تائید کرنے والے بی جے پی قائدین مسلم تحفظات کا بہانہ بناکر مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں بھی مسلم تحفظات پر عمل آوری جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کیلئے 10 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔ کانگریس پارٹی تحفظات کی مخالف نہیں ہے تاہم تلنگانہ میں 42 فیصد تحفظات کی منظوری کیلئے مرکز پر دباؤ بنایا جائے۔1