اقلیتوں کیلئے ایک لاکھ روپئے کی امدادی اسکیم، گولکنڈہ قلعہمیں یوم آزادی تقریب سے چندر شیکھرراؤ کا خطاب
سرکاری ملازمین کو پی آر سی، حیدرآباد کے عوام کو ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کا اعلان
یتیم بچے اسٹیٹ چلڈرن کہلائیں گے، بارش سے متاثرہ مکانات کو گروہا لکشمی اسکیم سے مالی امداد
حیدرآباد۔/15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ مختصر عرصہ میں ریاست تلنگانہ کو ویلفیر اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اثاثہ جات کو فروغ دیتے ہوئے آمدنی غریبوں میں تقسیم کی جارہی ہے، آج سے حیدرآباد کے عوام میں ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات تقسیم کرنے کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے۔ سرکاری ملازمین کو پی آر سی دی جائے گی، ریاست میں موسلا دھار بارش سے جن مکانات کو نقصان پہنچا ہے انہیں گروہا لکشمی اسکیم کے تحت تین لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ گریٹر حیدرآباد کے اطراف و اکناف میٹرو ریل کا جال بچھایا جائے گا۔ یتیم بچے آج سے اسٹیٹ چلڈرن قرار دیئے جارہے ہیں۔ ان کی ساری ذمہ داری حکومت قبول کرے گی۔ یوم آزادی کے موقع پر قلعہ گولکنڈہ پر پرچم کشائی کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ آزادی کے 77 سال بعد بھی ملک توقع کے مطابق ترقی نہیں کرپایا ہے جبکہ ملک کو ترقی دینے کیلئے قدرتی وسائل کے انبار ہیں۔ ملک پر حکمرانی کرنے والوں نے دوراندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی قدرتی وسائل کا بہتر انداز میں استعمال کیا۔ تلنگانہ کو آندھرائی حکمرانوں نے نظرانداز کیا ۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے قائدین نے بھی حق کی آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کو پُرامن اور کامیاب انداز میں چلایا اورعلحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد مختصر عرصہ میں تلنگانہ کو ہر شعبہ میں ترقی دینے کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کی جس کے نتیجہ میں ریاست تلنگانہ ہر شعبہ میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کیلئے مثالی ریاست میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ریاست کے اثاثہ جات کو فروغ دیتے ہوئے جو آمدنی حاصل ہورہی ہے اس کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مناسب انداز میں استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کیلئے فلاحی اسکیمات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود میں بھی تلنگانہ ریاست ملک کی دوسری ریاستوں سے بہت آگے ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ تلنگانہ کے ملازمین تنخواہیں حاصل کررہے ہیں اور یہ بات کہتے ہوئے انہیں فخر محسوس ہورہا ہے۔ علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد ملازمین کو خصوصی انکریمنٹ دیا گیا، دو پی آر سی کے ذریعہ 73 فیصد فیٹمنٹ دیا گیا۔ کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ ایمپلائز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ بہت جلد نئی پی آر سی تشکیل دیتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا تب تک انہیں عبوری راحت فراہم کی جائے گی، وہ اسمبلی میں بھی اس طرح کا اعلان کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد کے غریب عوام میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تقسیم کئے جائیں گے جس کے عمل کا آج سے آغاز ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اراضی رکھنے والے غریب عوام کو مکانات کی تعمیرات کیلئے گروہا لکشمی اسکیم کے تحت تین لاکھ روپئے تک امدادی رقم فراہم کی جائے گی۔ اقلیتوں میں بھی ایک لاکھ روپئے امدادی رقم تقسیم کی جارہی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ دلت بندھو اسکیم کے تحت ہر خاندان کو 10 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں۔ بی سی طبقات کو ایک لاکھ روپئے امدادی رقم تقسیم کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یتیم بچوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں بہت زیادہ خوشی محسوس ہورہی ہے، آج سے یتیم بچے اسٹیٹ چلڈرن قرار دیئے جائیں گے اور ان کی ترقی ، فلاح و بہبود ، تعلیم اور دیگر تمام ذمہ داریاں ریاستی حکومت قبول کرے گی۔ بالخصوص یتیم لڑکیوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے اور انہیں اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے حکومت ملازمت کے مواقع بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن چند لوگوں نے اس میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی مگر ان کی رکاٹوں کودور کرتے ہوئے اسمبلی میں بل منظور کیا گیا۔ حکومت کے اس فیصلہ سے آر ٹی سی کے43,373 ایمپلائز کو فائدہ ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں گذشتہ ماہ اوسط سے زیادہ بارش ہوئی ہے، حکومت نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے فوری طور پر راحت کاری کے اقدامات کیلئے 500 کروڑ روپئے منظورکئے ہیں۔ عوام کو بچانے کیلئے بڑے پیمانے پر راحت کاری کے اقدامات کئے گئے۔ بارش سے فوت ہونے والے افراد کے ارکان خاندان کو مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ فصلوں کو نقصانات کا تخمینہ کیا جارہا ہے، متاثرہ کسانوں کو بھی مالی امداد فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے ریاست کے دیہی اور شہری علاقوں کو مساوی ترقی دینے کیلئے’’ پلے اور پٹنا ‘‘ باٹا پروگرام کا آغاز کیا ہے جس سے تلنگانہ کے گرام پنچایتوں اور مقامی اداروں کو بڑے پیمانے پر انعامات حاصل ہوئے ہیں۔ ریاست تلنگانہ ترقی کے معاملہ میں ملک کیلئے رول ماڈل میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ملک میں ہر جگہ تلنگانہ کی ترقی موضوع بحث بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے صدر مقام گریٹر حیدرآباد کو ترقی دینے بالخصوص بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کیا جارہا ہے۔ میٹرو ریل کو بڑے پیمانے پر توسیع دی جارہی ہے، 69 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ٹریفک مسائل کی یکسوئی کیلئے ایس آر ڈی پی پراجکٹ کے تحت 67 ہزار 149 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ابھی تک 42 اہم شاہراہیں، فلائی اوورس، انڈر پاس آر او بی کو ترقی دی گئی ہے۔ 275 کروڑ روپئے کے مصارف سے 22لنک روڈز تعمیر کی گئی ہیں۔ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت 9 سال کے دوران کسانوں کے تقریباً 37 ہزار کروڑ روپئے قرض معاف کئے گئے ہیں، کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے تلنگانہ میں جو اقدامات کئے جارہے ہیں اس کی ملک بھر میں نظیر نہیں ملتی۔ ن
