سرکاری طور پر تصدیق، معاوضہ کی ادائیگی اور درخواستوں میں واضح زمین آسمان کا فرق
حیدرآباد۔ 19 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے بشمول ملک کی کئی ریاستوںنے کورونا اموات کی حقیقی تعداد کو چھپائی ہے۔ کورونا معاوضہ کیلئے وصول ہونیوالی درخواستیں اور حکومت کے اموات کے اعداد و شمار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سپریم کورٹ نے کورونا سے فوت افراد کے ورثا کو فی کس 50 ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے احکام جاری کئے۔ جس پر عمل آوری کا جائزہ لینے کیلئے سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی کہ کتنے خاندانوں کو معاوضہ دیا گیا اس کی تفصیلات پیش کی جائیں جس پر مختلف ریاستوں نے سپریم کورٹ کو فہرست پیش کی ہے۔ رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ۔ سب سے زیادہ مہاراشٹرا میں 2,13,890 لاکھ خاندانوں نے معاوضہ کیلئے درخواستیں داخل کی ہیں جس پر حکومت نے ابھی تک 92,275 خاندانوں میں معاوضہ ادا کیا ہے، جبکہ مہاراشٹرا حکومت نے 1,41,737 لاکھ اموات کی تصدیق کی ۔ اس کے علاوہ گجرات اور تلنگانہ میں بھی بھاری فرق نظر آرہا ہے۔ گجرات حکومت نے کورونا سے 10,094 افراد فوت ہونے کی سرکاری طور پر توثیق کی ہے جبکہ گجرات میں 89,633 خاندانوں نے معاوضہ کے لئے درخواستیں داخل کی ہیں۔ جس میں ابھی تک 58,843 خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے کورونا سے 3993 افراد کی اموات ہونے کی تصدیق کی ہے۔ معاوضہ کے لئے 28,969 خاندانوںنے درخواستیں داخل کی ہیں جن میں 12,148 خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ گجرات میں اندراج ہوئے اموات کی تعداد سے 9 گنا زیادہ اور تلنگانہ میں درج ہوئے اموات کی تعداد سے 7 گنا زیادہ معاوضہ کے لئے درخواستیں وصول ہوئی ہیں جس پر سپریم کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کتنے لوگ کی اموات ہوئی ہے اس پر توجہ دینے سے زیادہ جتنے خاندانوں نے درخواستیں داخل کی ہیں انہیں معاوضہ دینے کی وکالت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کورونا سے متاثر ہونے کے اندرون 30 یوم ناسازی صحت اور خودکشی کی اموات کو بھی کورونا کی اموات میں شمار کرنے کی ہدایت دی ۔ ساتھ ہی اموات کے معاوضہ کے لئے بڑے پیمانے پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں شعور بیداری کرنے کی حکومتوں کو ہدایت بھی دی ہے۔ ن