تاریخی واقعات کا غلط اندراج ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ
سید اسماعیل ذبیح اللہ
حیدرآباد۔27جولائی۔ ریاست حیدرآباد کی تہذیب ‘ تمدن او رفرقہ وارانہ ہم آہنگی زمانہ قدیم سے ساری دنیاکے لئے ایک مثال بنی ہوئی ہے قطب شاہی دور ہو یاپھر آصف جاہی سلاطین کا دور حکمرانی ریاست حیدرآباد میںفرقہ ورایت کے سانپ کا سر ہمیشہ کچلنے کاکام کیاگیاہے اور ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اس وقت چار چاند لگ گئے جب آصف جاہ صابع نظام ہشتم عثمان علی خان بہادر نے ریاست حیدرآباد کی کمان اپنے ہاتھ میںلی تھی۔ انگریزوں کی غلامی سے ملک کی آزادی کے بعدریاست حیدرآباد کی خود مختاری کو ختم کرنے کے مقصد سے انجام دئے گئے پولیس ایکشن اور اس کے بعد لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حیدرآباد دکن میںہندو او رمسلمانوں کے اتحاد سے دلبرداشتہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی سازشوں کوانجام دینے کاکام شروع کردیاتھا۔ ایک طرف ریاست حیدرآباد کا زوال اور دوسری طرف رضاکار تحریک کے حوالے سے بے شمار من گھڑت کہانیاں بنائیں گئیںاور اس کام کو اس وقت کے فرقہ پرست مورخین نے اس انداز میںترتیب دیا کہ ان من گھڑ ت قصوں او رکہانیوں کی بنیاد پر ہی ریاست نے بے شمار فرقہ وارانہ فسادات دیکھے جس میں بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ طویل جدوجہد کے بعد جب علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میںآئی تو ریاست کے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانو ں کونئی ریاست او رنئی حکومت سے کافی امیدیں پیدا ہوگئیں۔ کیونکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلے چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو بنے اور آج بھی ریاست تلنگانہ میں کے سی آر کے زیر قیادت حکومت اپنے فرائض انجام دی رہی ہے۔کسی بھی ریاست کا مستقبل اس کے سرکاری نصاب پر منحصر ہوتا ہے اوراگر سرکاری نصاب میںکہیں پر بھی فرقہ پرستی اپنی جگہ بنانے میںکامیاب ہوجاتی ہے توایسی ریاست کے سکیولر اقدار کی برقراری ممکن نہیںرہے گی ۔ریاست کے مختلف محکموں کے اہم عہدوں جیسے گروپ ون سے گروپ چار کے عہدیداروں کا تقرر ہویا پھر تحصلید ار ‘ وی آر او اور پولیس سب انسپکٹر ان کی بھرتی ہو اس کام کو انجام دینے کی ذمہ داری ریاستی پبلک سرویس کمیشن( ٹی ایس پی ایس سی ) کے سپرد ہوتی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاستی پبلک سرویس کمیشن کے پاس ایسے اہم عہدوں پر تقرر کے لئے منعقد کئے جانے والے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لئے فراہم کئے جانے والے نصاب کا تعین کرنے والی کوئی کمیٹی موجود نہیںہے۔اور اگر ان حالات میںکسی فرقہ پرست ذہنیت کے حامل شخص کے ہاتھوں تیار کئے جانے والے نصاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ٹی ایس پی سی کے مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مذکورہ بالا اہم عہدوں پر اگر کوئی شخص فائز ہوتا ہے تو اس سے ریاست کے اقلیتی اور دیگر پسماندہ طبقات کس طرح انصاف کی امید کرسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لئے بنائے گئے نصاب کا ہے ۔ یہ نصابی گائیڈ 2016میں کسی ایس راجو نامی شخص نے شائع کی ہے جس پر کسی پبلشر کمپنی کا نام بھی درج نہیںہے مگراس کو’’تلنگانہ تحریک اور ریاست کی تشکیل1948سے 2014‘‘ کا نام ضرور دیاگیاہے۔اس کتاب کے صفحہ144پر تحریر کیاگیاہے کہ ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میںانضمام سے قبل تبلیغی تحریک کی شروعات عمل میںآئی تھی جس میں ہندوئوں اور دلتوں کو زبردستی مسلمان بنانے کاکام کیاگیاہے ‘ ‘ اور اسی صفحہ پر آگے تحریر کیاگیاہے کہ’’ گڈرام پلی گائوں میں رضاکاروں کے مظالم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور انہوں نے 16لوگوں کو وہاں پر زندہ جلادیا‘‘ ۔ اس کتاب کا مصنف آگے تحریر کرتا ہے کہ ’’رضاکاروں نے گنڈ لا پور میں بتکماں کھیل کر واپس ہونے والی ہندوخواتین کو روکا اور ان کی پشت پر مار کر انہیںبرہنہ کیا اور ان کو ناچنے پر مجبور کیا‘‘۔(سلسلہ اندرونی صفحہ پر)
سلسلہ صفحہ آخر سے
تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی نصابی گائیڈ میں حقائق سے انحراف
اس کتاب کے حوالے سے جب ممتاز مورخ کیپٹن لنگالا پانڈو رنگا ریڈی سے بات کی گئی تو انہوں نے رضاکاروں کی مدافعت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ رضاکار کا مطلب دوست ہوتا ہے ‘ اس طرح کی باتیں تلنگانہ تحریک کے دوران بھی اٹھائی گئی تھیں جس کی ہم نے سختی کے ساتھ مذمت کی ‘ یہ دراصل غیر علاقائی کمیونسٹوں کی جانب سے لکھی گئی تاریخ ہے جس کا مقصد حیدرآباد کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنا تھا۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ یہی تاریخ آج تک دوہرائی جارہی ہے جس سے ریاست کے نوجوان نسل میں زہر پھیلنے کاقوی امکان ہے‘‘۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومت سے اس معاملے میںمداخلت کرنے اورایس راجو سے اپنے اس کتاب کے فرقہ واریت پر مشتمل مواد کو حذف کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔اس طرح کے نصاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اہم عہدوں پر فائز ہونے والوں سے کسی بھی قسم کے انصاف کی امید ہرگز نہیںکی جاسکتی ہے۔ اور اگر اس قسم کے واقعات رضاکار تحریک کے دوران پیش آتے تو اس وقت بھی ذرائع ابلاغ موجود تھا۔ ریاست حیدرآباد میںانگریزی اور تلگوروزناموں کی اشاعت عام تھی۔ مگر کسی ایک اخبار نے بھی اس طرح کی خبر کو شائع نہیںکیاہے اور اگر شائع کرتے تو یقینا فرقہ پرست طاقتیں ان اخبارات کے تراشوں کی اشاعت کے ذریعہ اپنی زہریلی کوششوں کو مزیدتقویت پہنچانے کاکام کرتے تھے۔ریاستی حکومت کے ذمہ داران کو اس جانب توجہہ دینے کی ضرورت ہے ۔ریاست تلنگانہ کے سکیولر اقدار کا تحفظ اور بقاء کے لئے سکیولر ذہنیت کی حامل ماہرین تعلیم کے خدمات سے استفادہ اور نصاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے والے سلاطین حیدرآباد کی تاریخ کو شامل کرنے سے ہی ممکن ہے۔بصور ت دیگر تلنگانہ کا بھی حال شمالی ہند کی ریاستوں جیسا ہونے میںدیر نہیںلگے گی ۔