انچارج کانگریس اور میناکشی نٹراجن نالاں، سفارشی عہدہ کی منظوری نہ دینے پر مصر
حیدرآباد۔3۔جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کی تشکیل جدید کے دوران ’ورکنگ پریسڈنٹ‘ کے عہدہ پر تقرر کا تنازعہ شدت اختیار کرتا جار ہاہے ۔ تلنگانہ کانگریس امور کی انچارج محترمہ میناکشی نٹراجن ریاست کے امور سے نالاں ہوچکی ہیں اور اب مزید تلنگانہ میں خدمات جاری رکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں!بتایا جاتا ہے کہ محترمہ میناکشی نٹراجن نجی محفلوں میں کانگریس کے سرگرم قائدین کے ہمراہ مشاور ت کے دوران اس بات کی وضاحت کر چکی ہیں کہ ان کے ریاستی حکومت یا چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے کوئی اختلافات نہیں ہیں بلکہ پردیش کانگریس کمیٹی میں مسلم ورکنگ پریسڈنٹ کے عہدہ پرمخصوص سفارشی افراد کی نامزدگی کے حق میں نہیںہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق میناکشی نٹراجن ریاستی کانگریس قائدین کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں اسی لئے وہ ریاستی کانگریس قائدین کے رویہ سے ناراض ہیں۔ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ اگر انہیں ورکنگ پریسڈنٹ کے عہدہ پر تقرر کے سلسلہ میں کی جانے والی سفارش کو قبول کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اختیا رکرلیں گی۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق انچارج تلنگانہ کانگریس امور نے تمام طبقات کو نمائندگی فراہم کرنے کے سلسلہ میں اپنی فہرست کو قطعیت دے دی ہے اور 4 ورکنگ پریسڈنٹ کے عہدوں پر ایک ریڈی ‘ ایک ایس ٹی اور ایک ایس سی کے علاوہ ایک مسلمان کے تقرر کا فیصلہ کرلیاہے لیکن ان کے فیصلہ میں تبدیلی بالخصوص مسلم ورکنگ پریسڈنٹ کے عہدہ پر تقرر کے سلسلہ میں نام کی تبدیلی کے لئے ڈالے جانے والے دباؤ پر وہ ناراض ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ محترمہ میناکشی نٹراجن نے ان پر دباؤ ڈالے جانے یا پارٹی ہائی کمان کی جانب سے تلنگانہ قائدین کے سفارشی ناموں کو منظوری دیئے جانے کی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اختیار کرنے کے فیصلہ سے پارٹی اعلیٰ قائدین کے علاو ہ ریاستی قائدین کو واقف کرواچکی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ میناکشی نٹراجن کے سخت گیر موقف کے نتیجہ میں پردیش کانگریس کمیٹی میں نئے ورکنگ پریسڈنٹس کی نامزدگیوں کا عمل تاخیر کا شکار ہورہا ہے ۔ذرائع کے مطابق کانگریس پارٹی ہائی کمان کی جانب سے میناکشی نٹراجن کے سخت موقف کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے سفارش کردہ ناموں کو قطعیت دینے کے سلسلہ میں غور کیا جار ہاہے جبکہ محترمہ میناکشی نٹراجن کا استدلال ہے کہ انہوں نے جن ناموں کو قطعیت دی ہے وہ پارٹی کے استحکام اور مفادمیں ہیں جبکہ تلنگانہ کانگریس قائدین کی جانب سے جن ناموں کی سفارش کی جارہی ہے وہ پارٹی کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ثابت نہیں ہو سکتے اسی لئے وہ ان ناموں کو منظوری دیئے جانے کی مخالف ہیں۔3
