تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر کے انتخاب میں تاخیر کا امکان

   

Ferty9 Clinic


ناراض قائدین ہائی کمان سے رجوع ہوسکتے ہیں، کے سی آر مرکزی حکومت سے خوفزدہ: مانکیم ٹیگور
حیدرآباد: تلنگانہ میں پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے صدر کے انتخاب کے لئے کچھ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ کانگریس ہائی کمان پارٹی قائدین کی رائے کا جائزہ لے رہا ہے۔ جنرل سکریٹری آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور ایم پی نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پردیش کانگریس کے نئے صدر کے انتخاب کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ابھی تک 162 قائدین سے رائے حاصل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اے آئی سی سی قائدین سے لے کر ضلع سطح کے قائدین تک کی رائے حاصل کی گئی ہے۔ سابق میں پردیش کانگریس کے صدر کے لئے اس طرح مشاورت کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ قائدین کی رائے پر مشتمل رپورٹ صدر اے آئی سی سی سونیا گاندھی اور سابق صدر راہول گاندھی کو پیش کی جائے گی ۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ نئے صدر کے انتخاب میں کسی قدر تاخیر ہوسکتی ہے۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ صدر کے بارے میں ہائی کمان کا فیصلہ قطعی رہے گا اور تمام قائدین کو اسے تسلیم کرنا ہوگا ۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ کے قائدین ہائی کمان کے فیصلہ کو قبول کریں گے ۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ ہر قائد سے یہ سوال کیا گیا کہ پردیش کانگریس کی صدارت کے لئے کون بہتر رہے گا ۔ ہر کسی نے اس سلسلہ میں اپنی رائے کے مطابق نام تجویز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو صدارت کے انتخاب کے طریقہ کار سے اختلاف ہے تو وہ راست طور پر ہائی کمان سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ پارٹی کے بعض قائدین نے ہائی کمان کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ ایک مخصوص قائد کے حق میں ماحول تیار کیا گیا جبکہ اس عہدہ کے لئے اور بھی کئی قائدین اہلیت رکھتے ہیں۔ مانکیم ٹیگور نے ٹی آر ایس اور بی جے پی روابط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں گلی میں لڑائی اور دلی میں دوستی کی پالیسی پر عمل پیراں ہیں۔ نریندر مودی سے کے سی آر کی ملاقات کے بعد یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین کے خلاف مزید چھ ماہ تک انکم ٹیکس اور ای ڈی کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور کے سی آر کی ملاقات پر کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کو اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہئے ۔ کانگریس کے ایسے قائدین جن کی عوامی مقبولیت نہیں ہے ، وہ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں۔ کانگریس میں عوامی مقبول قائدین کی کمی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی قائدین کانگریس میں برقرار رہیں گے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر انتخابات میں شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ پارٹی شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انجن کمار یادو نے گریٹر حیدر آباد کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس مستحکم موقف رکھتی ہے اور قائدین پارٹی کے استحکام کیلئے کام کریں گے۔