تلنگانہ پر امیت شاہ کا بیان قابل مذمت: پونم پربھاکر

,

   

Ferty9 Clinic

معذرت خواہی کا مطالبہ ، زیر آب علاقوں کے مسائل پر چیف سکریٹری سے نمائندگی

حیدرآباد۔7 ۔ اگست (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر نے تلنگانہ سے متعلق لوک سبھا میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کی مذمت کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ امیت شاہ نے تلنگانہ عوام کی توہین کی ہے ، لہذا انہیں معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ کا یہ بیان کہ یو پی اے حکومت نے پارلیمنٹ کے دروازہ بند کرتے ہوئے تلنگانہ بل کو منظوری دی، قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے عہدہ پر فائز شخص پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جس وقت امیت شاہ تلنگانہ کی تشکیل کے طریقہ کار کے خلاف پارلیمنٹ میں بیان دے رہے تھے، وہاں موجود ٹی آر ایس ارکان نے خاموشی اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس ارکان کو چاہئے تھا کہ وہ امیت شاہ کے بیان پر اعتراض کرتے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے تلنگانہ کے بارے میں جو بیان دیا ہے، اس پر بی جے پی کو وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی 60 سالہ امیدوں اور شہیدان تلنگانہ کی قربانیوں کے نتیجہ میں تلنگانہ ریاست تشکیل پائی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے تعاون کیا۔ ایسے تلنگانہ کے بارے میں امیت شاہ کا غیر ذمہ دارانہ بیان باعث افسوس ہے۔ سابق میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ ملک کی تقسیم کی خواہش رکھنے والوں نے تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے۔ وہی نریندر مودی آج کہہ رہے ہیں کہ تلنگانہ کی تشکیل غلط طریقہ سے عمل میں آئی ہے۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ تشکیل تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں امیت شاہ اور نریندر مودی کے ریمارکس پر ٹی آر ایس اور بی جے پی ارکان کی خاموشی افسوسناک ہے ۔

پونم پربھاکر نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی بل پر ووٹنگ سے قبل ہال کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ کے طریقہ کار سے لاعلم ہیں۔ اسی دوران پونم پربھاکر کی قیادت میں راجنا سرسلہ ضلع کے مختلف قائدین اور عوامی نمائندوں نے چیف سکریٹری ایس کے جوشی سے ملاقات کی۔ انہوں نے مڈمانیر پراجکٹ کے تحت زیر آب علاقوں کے عوام اور کسانوں کے مسائل پر نمائندگی کی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت نے زیر آب علاقوں کے مسائل کو نظر انداز کردیا ہے۔ مڈ مانیر پراجکٹ کے تحت 11 مواضعات زیر آب آچکے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ متاثرین کو ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کریں۔ چیف سکریٹری سے درخواست کی گئی کہ 18 سال مکمل کرنے والے نوجوانوں کو دو لاکھ روپئے اور متاثرہ خاندان کو 200 گز اراضی الاٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے نام پر کسانوں سے جو اراضیات حاصل کی جارہی ہیں، ان کے معاوضہ کی ادائیگی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 18 جون 2015 ء کو مڈمانیر کے متاثرین کو ڈبل بیڈروم مکانات اور پانچ لاکھ روپئے ادا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک عمل نہیں کیا گیا ۔ پونم پربھا کر کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کے کئی ایم پی ی سی اور زیڈ پی ٹی سی ارکان موجود تھے۔
مرکزی حکومت کے دواخانوںمیں نرسنگ آفیسرس کے تقررات
حیدرآباد ۔ 7 اگست (سیاست نیوز) ایمس ہاسپٹل دہلی کے مختلف مرکزی حکومت کے دواخانوں میں نرسنگ آفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور جملہ 503 جائیدادیں ہیں۔ مختلف دواخانے جیسے ایمس دہلی، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ہاسپٹل، صفدرجنگ ہاسپٹل، لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، شریمتی سچیتا کروپالانی ہاسپٹل اور کلاوتی شرن چلڈرنس ہاسپٹل میں جائیداد مخلوعہ ہیں۔ قابلیت کے اعتبار سے بی ایس سی آنرس (نرسنگ)، بی ایس سی (نرسنگ) ؍ پوسٹ بیسک بی ایس سی (نرسنگ) ، ڈپلومہ جنرل نرسنگ (اینڈ مڈوائفری) اور ڈپلومہ امیدوار کو دو سالہ تجربہ لازمی ہے اور امیدوار نرسنگ کونسل میں رجسٹرڈ شدہ ہوں اور امیدواروں کی عمریں 30-18 سال کے درمیان ہوں۔ امیدوار درخواست داخل کرنے کے اہل ہوں گے۔ درخواست فیس 1500 روپئے اور ادخال درخواست کی آخری تاریخ 21-08-2019 ہے۔ مزید تفصیلات کیلئے ویب سائیٹ www.aiims.edu ملاحظہ کریں۔