تلنگانہ پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی گہری نظر

   

2023 ء میں اقتدار کو مشن بنانے قائدین کو ہدایت، عوام کو ٹی آر ایس کے متبادل کی تلاش
حیدرآباد۔8۔نومبر (سیاست نیوز) حضور آباد ضمنی چناؤ کے نتیجہ نے بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کردیا ۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ بی جے پی اور مرکزی حکومت کے خلاف خود چیف منسٹر کے سی آر میدان میں آچکے ہیں اور انہوں نے قومی سطح پر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور آباد میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی و وزیر داخلہ امیت شاہ نے تلنگانہ کے قائدین کو ہدایت دی کہ وہ پارٹی کے استحکام پر توجہ دیں۔ تلنگانہ قائدین سے کہا گیا کہ وہ حضور آباد نتیجہ کا اثر دیگر اضلاع میں پہنچانے حکومت کی مخالف عوام پالیسی پر احتجاج منظم کریں۔ پارٹی قومی صدر جے پی نڈا نے تلنگانہ سیاست پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی عاملہ اجلاس میں وزیراعظم نے حضور آباد کی کامیابی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ٹی آر ایس کی متبادل کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ وزیراعظم نے حضورآباد کا بطور خاص تذکرہ کیا اور کہا کہ 2018 انتخابات میں حضور آباد میں بی جے پی کو 2000 سے کم ووٹ ملے لیکن اس بار ایک لاکھ سے زائد ووٹ ملے ۔ مرکز کی کارکردگی سے متاثر عوام بی جے پی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی بی جے پی کی مقبولیت بڑھی ہے۔ جے پی نڈا نے بھی تلنگانہ قائدین کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ دوباک کی طرح حضور آباد میں کامیابی ملی ہے۔ جی ایچ ایم سی چناؤ میں بھی بی جے پی کا مظاہرہ غیر معمولی رہا۔ تلنگانہ کے عوام بی جے پی کو ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بنڈی سنجے اور دیگر ایم پیز بشمول مرکزی وزیر کشن ریڈی کو قیادت نے ہدایت دی کہ اسمبلی انتخابات تک ہر حلقہ میں کیڈر کو مستحکم کریں۔ 2023 ء میں اقتدار حاصل کرنے ابھی سے سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے ۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ تلنگانہ پر بی جے پی کی توجہ سے آئندہ دنوں میں ٹی آر ایس و بی جے پی کی دوریوں میں مزید اضافہ ہوگا اور کئی مسائل پر مرکز و ریاست کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ ر