ریاستی حکومت کی آمدنی کم اور مصارف زیادہ ، سی اے جی کی رپورٹ کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر (این ایس ایس/ پی ٹی آئی) حکومت تلنگانہ نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیاٹ) کی رپورٹ ایوان میں پیش کردی۔ اس رپورٹ کے مطابق ریاست پر 1.42 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ حکومت تلنگانہ کی آمدنی اس کے مصارف سے کہیں زیادہ ہے۔ 7 سال کے دوران حکومت پر واجب الادا قرض 65.740 کروڑ روپئے بتایا گیا ہے جبکہ آمدنی کا خسارہ 284.74 کروڑ روپئے بتایا گیا ۔ حکومت تلنگانہ نے 2014 ء تا 2019 ء 79.236 کروڑ روپئے کا صرفہ کیا۔ ابتدائی تخمینہ کے مطابق 19 آبپاشی پراجکٹوں پر 41.021 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے لیکن پراجکٹوں کی تعمیر میں ہونے والی تاخیر کے سبب ان پراجکٹوں پر 1.32 لاکھ کروڑ روپئے خرچ ہوئے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے تعلیمی شعبہ کیلئے مختص کی جانے والی رقومات انتہائی کم رہی ہیں۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے آمدنی کی نسبت سے قرض پر ادا کئے جانے والے سود کی شرح پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 14 ویں فینانس کمیشن کی طرف سے سود کا ہدف 8.31 فیصد رکھا گیا تھا جس کے برخلاف کہیں زیادہ یعنی 12.19 فیصد رہا۔