تلنگانہ پر 2,37,747 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کا بوجھ

   

بیرونی مالیاتی ادارے ریاست کو قرض دینے تیار نہیں، ریونت ریڈی کے سوال پر مرکزی مملکتی وزیر کا تحریری جواب
حیدرآباد۔21۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ پر 2,37,747 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کا بوجھ عائد ہوگیا ہے۔ بیرونی ممالک کے ادارے گزشتہ 5 سال سے ریاست کو قرض دینے کیلئے تیار نہیں ہورہے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ و صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا تحریری طور پر جواب دیتے ہوئے لوک سبھا میں مرکزی مملکتی وزیر پنکج چودھری نے یہ بات بتائی ۔ جاریہ سال 30 نومبر تک ریاست تلنگانہ نے اندرون ملک مختلف مالیاتی اداروں سے 2,34,912 لاکھ کروڑ اور بیرونی ممالک سے 2,835 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران بیرونی ممالک کے مالیاتی اداروں نے ریاست تلنگانہ کو کوئی قرض نہیں دیا ۔ بیرونی ممالک کے تعاون سے جن پراجکٹس پر عمل آوری ہورہی ہے ، ان کے لئے 2016-12 تا 2020-21 ء تک مرکزی حکومت کے تعاون سے 2,233.62 کروڑ روپئے پر مشتمل قرض جاری ہوا ہے جس میں سال 2016-17 ء میں 956.12 کروڑ سال 2017-18 ء میں 636.68 کروڑ سال 2018-19 ء میں 433.36 کروڑ سال 2019-20 ء میں 207.46 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مرکزی مملکتی وزیر نے انکشاف کیا ہے ۔ بیرونی ممالک کے مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرض پر تلنگانہ حکومت نے سود اور اصل ملاکر پانچ سال کے دوران 529.75 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں۔ سال 2017-18 ء تا سال 2021-22 ء نومبر تک اصل کی شکل میں 382.22 کروڑ اور سود کی شکل میں 147.53 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ جاریہ مالیاتی سال کے ساتھ مزید دو سال کے جی او جی پی ، آئی بی آر ڈی ، آئی ڈی اے اداروں کو اصل کے ساتھ سود ملاکر 529.24 کروڑ روپئے ادا کرنا باقی ہے ۔ ان تینوں اداروں کے اصل 154.84 کروڑ اور سود 54.69 کروڑ سال 2022-23 ء میں اصل 153.57 کروڑ اور سود 21.81 کروڑ سال 2023-24 ء میں اصل 153.62 کروڑ اور سود 20.72 کروڑ روپئے ادا کرنا ہے ۔ ن