سائبر سیکوریٹی کانفرنس ، ڈی جی پی انجنی کمار کا خطاب
حیدرآباد۔/26 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پولیس ریاست میں سائبر کرائمس کی روک تھام میں سرفہرست ہے اور اس سلسلہ میں کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ انجنی کمار نے آج سائبر سیکوریٹی کانفرنس 2023 سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ایسی پہلی ریاست ہے جس میں سائبر سیکوریٹی بیورو قائم کیا گیا ہے تاکہ سائبر کرائمس کے تحت درج کئے جانے والے مقدمات کی تحقیقات کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد کے اطراف واکناف 600 آئی ٹی کمپنیاں کام کررہی ہیں اور ان میں 10 لاکھ سے زائد آئی ٹی اور سافٹ ویر ملازمین ہیں۔ حالانکہ انٹرنیٹ کے استعمال کیلئے خواندگی کی حیدرآباد اور اس کے علاقوں میں کافی تعداد ہے لیکن اس کے باوجود بھی وقفہ وقفہ سے سائبر کرائمس رونما ہورہے ہیں۔گلوبل کاؤنٹر ٹیریرزم کونسل اور ڈیجیٹل انڈیا کی جانب سے منعقد کی گئی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجنی کمار نے کہا کہ دنیا بھر میں سائبر کرائم تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں سال 2019 میں 2691، سال 2020 میں 5024 ، سال 2020-21 میں 10,303 اور 2022 میں 15217 سائبر کرائم سے متعلق مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکوریٹی بیورو نے سائبر سیکوریٹی سے پیدا ہونے والے چیلنجس سے نمٹنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں اور اس کیلئے 500 سائبر ماہرین کا انٹیگریٹیڈ کمانڈ کنٹرول کے ذریعہ تقرر کیا گیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ضلع کی سطح پر سائبر کرائمس کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور سائبر کرائمس سے متعلق شکایت کرنے کیلئے ٹول فری نمبر 1930 اور ڈائیل 100 رکھا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں سائبر کرائمس سے متعلق شعور بیداری کیلئے بھی کئی پروگرامس پیش کئے جارہے ہیں تاکہ عوام الناس کو اس سلسلہ میں آگاہ کیا جاسکے۔ ریاست کے 800 پولیس اسٹیشنوں میں پولیس کانسٹبلس کو سائبر واریئر کے تحت خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ سائبر کرائمس سے بہتر طور پر نمٹا جاسکے۔ب