تلنگانہ پولیس کانسٹیبلس کا کام کے بہترحالات کیلئے وردی میں احتجاج

   

حیدرآباد ۔ 26 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں پولیس کانسٹیبلس اور ان کی فیملیز نے ریاست بھر میں ایک یکساں پولسنگ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں میں پولیس ملازمین کیلئے یکساں برتاؤ اور مساویانہ کام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ورنگل میں ۔ ممنور، ورنگل ڈسٹرکٹ میں فورتھ بٹالین کے کانسٹیبلس نے ان کے بٹالین کمانڈر کے دفتر کے باہر ایک بیٹھے رہو احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ ایک ’ایک پولیس، ایک ریاست‘ پالیسی کا مطالبہ کررہے ہیں جس کا مقصد تبادلوں کے قواعد کو معیاری بنانا اور پورے تلنگانہ میں کانسٹیبلس کی فیر پوسٹنگس کو یقینی بنانا ہے۔ نلگنڈہ ڈسٹرکٹ میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب سب انسپکٹر ایس بابو کو مبینہ طور پر کانسٹیبلس کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے احتجاج کے دوران پولیسمن کی فیملیز کے تیس ایس آئی کے مبینہ غیرشائستہ برتاؤ کے بعد انہیں واپس جاؤ کہا۔ ان احتجاجی مظاہروں میں کانسٹیبلس کی فیملیز بالخصوص خواتین کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ ابراہیم پٹنم، رنگاریڈی ڈسٹرکٹ میں خواتین نے جمع ہوکر ان کے شوہروں کیلئے بہتر برتاؤ کا مطالبہ کیا اور تھکادینے والے کام کے شیڈولس اور غلط پوسٹنگس جیسے مسائل کو نمایاں کیا۔ کئی احتجاجیوں نے کہا کہ ان حالات میں ان کے خاندان کی مضبوطی اور بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہورہی ہے۔ سکریٹریٹ کے پاس بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے جہاں کئی ارکان خاندان نے فوری اصلاحات کے مطالبہ کے ساتھ مارچ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے انہیں روک دیا اور بعض کو حراست میں لے لیا۔