تلنگانہ پولیس کی ’ فرینڈلی پولیسنگ ‘ سارے ملک کے لیے مثالی

   

خواتین کی حفاظت کے لیے شی ٹیمس کا قیام ، یوسف گوڑہ پولیس بٹالین میں تربیت مکمل کرنے والوں سے محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ فرینڈلی پولیسنگ کے معاملے میں تلنگانہ کی پولیس سارے ملک کے لیے مثالی نمونہ ہی ہوئی ہے ۔ شی پولیس کی خدمات سے بڑی حد تک خواتین پر ہونے والے مظالم گھٹے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں 10 لاکھ سی سی کیمرے لگائے جارہے ہیں ۔ عوام کی سیفٹی اور سیکوریٹی انٹی گریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر تعمیر کیا جارہا ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کا واحد سنٹر ہے ۔ امکان ہے کہ آئندہ سال اس کی خدمات دستیاب ہوجائیں گی ۔ یوسف گوڑہ میں منعقدہ دکشانت پولیس پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ جہاں پر 449 آرمڈ ریزرو پولیس کانسٹبلس کو 9 ماہ کی انڈکشن ٹریننگ دی گئی تھی ۔ محمد محمود علی نے تربیت مکمل کرنے والے پولیس ملازمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ذمہ دار محکمہ میں داخل ہوئے ہیں ۔ ایمانداری دیانتداری کے ذریعہ خدمات انجام دیتے ہوئے محکمہ پولیس کے وقار کو مزید اونچا کریں ۔ وزیر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے قبل کچھ لوگوں نے یہ افواہ پھیلائی تھی کہ اگر متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم ہوتی ہے اور تلنگانہ نئی ریاست بنتی ہے تو یہاں لا اینڈ آرڈر کنٹرول میں نہیں ہوگا ۔ تشدد میں اضافہ ہوگا ۔ برقی اور پانی کے مسائل پیدا ہوں گے ۔ اراضیات کی قیمتیں گھٹ جائیں گی ۔ ترقی گھٹ جائے گی ۔ فلاحی اسکیمات پر کوئی عمل آوری نہیں ہوگی ۔ لیکن تلنگانہ کی کامیاب تحریک چلانے والے کے سی آر نے بحیثیت چیف منسٹر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعہ 6 سال کے دوران جو عملی اقدامات کئے ہیں ۔ اس سے تمام الزامات ، افواہیں ، بدگمانیاں اور گمراہ کن پروپگنڈہ جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں ۔ مختصر عرصے میں تلنگانہ نے جو ترقی کی ہے اس سے سب حیران و پریشان ہیں ۔ چیف منسٹر نے ترقی اور فلاحی اسکیمات دونوں کو یکساں ترجیح دی ہے ۔ ان 6 سال کے دوران ہر ناممکن چیزممکن ہوگئی ہے ۔ کسی بھی ریاست کی ترقی کے لیے اس کا لا اینڈ آرڈر بہتر ہونا چاہئے ۔ اگر امن و امان برقرار ہو تو ترقی ممکن ہے ۔ محکمہ پولیس نے لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے اور فرینڈلی پولیس کے لیے جو کام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد محکمہ پولیس کو مضبوط و مستحکم کرنے پر اولین ترجیح دی ہے ۔ گاڑیوں کی خریدی پر 700 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ ملک میں پہلی مرتبہ شہر حیدرآباد میں انٹی گریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر تعمیر کیا جارہا ہے ۔ جس کا آئندہ سال افتتاح عمل میں آئے گا ۔ ریاست کی تشکیل کے بعد 7 نئے پولیس کمشنریٹ بنائے گئے ۔ نئے پولیس اسٹیشن ، پولیس سرکلس اور ڈی ایس پی آفس بھی تعمیر کئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ حکومت نے خواتین کی حفاظت کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ۔ شی ٹیمس ، بالخصوص ویمن سیفٹی ونگس قائم کئے گئے ہیں ۔ حکومت نے ٹریفک مینجمنٹ ، جرائم کی روک تھام ، چھان بین میں تیزی اور بہتری کے لیے سی سی ٹی وی پروجکٹ 2015 تا 2019 تک تلنگانہ میں 30 ہزار سے زائد پولیس جائیدادوں پر تقررات کیے گئے ہیں ۔ 28 ٹریننگ سنٹرس میں 9 ہزار سے زائد پولیس کانسٹبلس کو تربیت فراہم کی گئی ہے ۔ اس موقع پر ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ابھیلاشا بھٹ کے علاوہ دوسرے پولیس عہدیدار موجود تھے ۔۔