کویتا کے بشمول تین نئے وزراء کی شمولیت، الیکشن 2023 ء ٹیم کی تیاری
حیدرآباد: تلنگانہ کابینہ میں آئندہ ماہ توسیع کے سلسلہ میں برسر اقتدار پارٹی حلقوں میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر 2 جون یا جون کے پہلے ہفتہ میں کابینہ میں توسیع اور تبدیلی کا مہورت قرار پایا ہے ۔ باوثوق ذرائع نے توثیق کی ہے کہ چیف منسٹر نے وسیع تر مشاورت کے بعد کابینہ میں تبدیلی اور توسیع کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر جاریہ ماہ کابینہ میں توسیع کے حق میں تھے لیکن لاک ڈاؤن میں توسیع اور کورونا کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر اس سے دستبرداری اختیار کی گئی ۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ تلنگانہ کی یوم تاسیس کی مناسبت سے 2023 ء اسمبلی انتخابات کیلئے ٹیم تشکیل دیں۔ انہوں نے وزراء کی علحدگی اور نئے وزراء کی شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق نظام آباد کی رکن کونسل اور چیف منسٹر کی دختر کویتا کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ جن ناموں کو تقریباً قطعیت دی جاچکی ہے ، ان میں گریجویٹ زمرہ سے کونسل کیلئے منتخب پی راجیشور ریڈی اور کھمم کے رکن اسمبلی ایس وینکٹ ویریا شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے کارکردگی کی بنیاد پر وزراء کی رپورٹ طلب کی اور کابینہ سے دو وزراء کی علحدگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سابق وزیر راجندر کی علحدگی اور ان کی مخالف ٹی آر ایس سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے کابینہ میں توسیع اور سرکاری عہدوں پر تقررات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ پارٹی اورحکومت کے حلقوں میں وزارت سے محروم کئے جانے والوں میں سی ایچ ملا ریڈی اور کے ایشور کے نام زیر گشت ہیں۔ ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور ڈسمبر 2023 ء کو اسمبلی کے انتخابات ہوں گے، لہذا چیف منسٹر انتخابات کا سامنا کرنے متحرک قائدین اور مشتمل وزراء کی ٹیم تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جاریہ ماہ چیف منسٹر نے گورنر سوندرا راجن سے کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر بات کی تھی جس کے بعد وہ پڈوچیری سے حیدرآباد واپس آگئیں۔ تاہم لاک ڈاؤن کے باعث چیف منسٹر نے فیصلہ کو ملتوی کردیا ۔ اقتدار میں دوبارہ واپسی کے بعد کے سی آر نے وزیر داخلہ محمد محمود علی کے ساتھ دو رکنی کابینہ تشکیل دی تھی ۔ ڈسمبر 2018 ء سے فروری 2019 ء تک صرف دو وزراء برقرار رہے ۔ 19 فروری 2019 ء کو کابینہ میں 10 نئے وزراء شامل کئے گئے۔ 8 ستمبر 2019 ء کو باقی 6 وزراء کو شامل کرکے وزارت کو مکمل کیا گیا ۔ اس کے بعد سے کابینہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ 20 ماہ میں کابینہ میں توسیع سے متعلق پارٹی اور سرکاری سطح پر کئی قیاس آرائیاں کی گئیں لیکن چیف منسٹر نے قطعی فیصلہ نہیں کیا اب جبکہ ایٹالہ راجندر کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں لہذا چیف منسٹر نئی ٹیم تیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔