تلنگانہ کانگریس قائدین کی گورنر سوندرا راجن سے ملاقات

   

صدر جمہوریہ کو موسومہ مکتوب حوالے،ہر شخص کو مفت ٹیکہ اندازی کا مطالبہ ، 7 جون کو ستیہ گرہ
حیدرآباد: تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج ریاستی گورنر ٹی سوندرا راجن کو راج بھون میں ملاقات کرتے ہوئے مکتوب حوالے کیا گیا جس میں ملک بھر میں عوام کو مفت کورونا ٹیکہ اندازی کی اپیل کی گئی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق تمام ریاستوں میں گورنرس کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو موسومہ مکتوب حوالے کیا گیا ۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر کے ہمراہ گورنر سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں ہر شخص کو مفت ٹیکہ اندازی کی ذمہ داری مرکزی حکومت قبول کرے ۔ وباء سے انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے یہ ضروری ہے ۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے مرکز اور ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کورونا پر قابو پانے میں دونوں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یادداشت میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کی ناکامی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسیس میں اضافہ کے نتیجہ میں ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ ٹیکہ اندازی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ہر بالغ شہری کو مفت ٹیکہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ ایک کروڑ افراد کو ٹیکہ اندازی کے ذریعہ 31 ڈسمبر تک ہر شہری کو ٹیکہ اندازی کا نشانہ مکمل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ویکسین کی کمی کے باعث عوام پریشان ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں بہتر طبی سہولتوں اور ادویات کی کمی ہے۔ کانگریس نے 15 ماہ قبل گورنر سے اس بارے میں نمائندگی کی تھی۔ انہوں نے کورونا کے علاج کو آروگیہ شری اسکیم کے تحت شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 7 جون کو حیدرآباد اور تمام اضلاع کے ہیڈ کوارٹرس پر کانگریس پارٹی ستیہ گرہ منظم کرے گی جس میں کورونا اور بلیک فنگس کے مفت علاج کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ رکن پارلیمٹ وینکٹ ریڈی نے صحافیوں کو فرنٹ لائین واریئرس قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ متوفی صحافیوں کے افراد خاندان کی سرکاری سطح پر مدد کی جائے ۔ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ غریبوںکو مفت علاج کی فراہمی ضروری ہے کیونکہ کارپوریٹ دواخانوں میں من مانی چارجس وصول کئے جارہے ہیں۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود تلنگانہ حکومت کارپوریٹ ہاسپٹلس کی من مانی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی۔