تلنگانہ کا پہلا ماب لنچنگ، جمعیۃ العلماء کی کامیابی مساعی

   

Ferty9 Clinic

ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل، فریقین کو نوٹس، سخت سزاء کی امید
نظام آباد۔حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سیکرٹری جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کی اطلاع کے بموجب تلنگانہ کا پہلا موب لنچنگ واقعہ جو کہ 26 جولائی کو موضع پولکل تعلقہ بانسواڑہ ضلع کاماریڈی میں نہتے عبدالعزیز اور رجب علی قریشی کو ایک منصوبے کے تحت بیل فروخت کرنے کے لیے گئورکشک تنظیم نے پولکل موضع میں بلوا کر ایک منظم پلان کے تحت بے دردی سے مارپیٹ کرتے ہوئے حملہ کرکے رجب علی قریشی کو قتل کر ڈالا اور عبدالعزیز کو شدید زخمی کرتے ہوئے بے ہوش کر دیا- اور ایک سازش کے تحت قریب کے برج پر ان کی بائیک کو اور لاش کو برج پر منتقل کرتے ہوئے ایک حادثے کی شکل دی گئی۔جس پر مقامی پولیس پٹلم و بچکندہ نے FIR نمبر 105/21 اور ایف آئی آر نمبر 110/21 دفعہ 304A کے تحت مقدمہ درج کیا اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔عبدالعزیز کے ہوش میں آنے کے بعد تفصیلات اور حقائق سامنے آئے جس پر جمیعت علماء تلنگانہ و آندھرا اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ زبردست نمائندگی کرتے ہوئے کاماریڈی سپرینڈنٹ آف پولیس سے مطالبہ کیا کہ دفعہ کو 302 میں تبدیل کرتے ہوئے رجب علی قریشی مرحوم کے ساتھ انصاف کیا جائے اور خود ساختہ گئورکشکوں (خاطیوں) کو سزا دلوائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں اور حکومت تلنگانہ سے شدید مطالبہ کیا گیا کہ اس کیس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے۔ لیکن پولیس کی جانب سے کوئی اقدام نہ کیئے جانے پر مجبورا جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے جنرل سیکریٹری پیر خلیق احمد صابر نے اہلیہ مرحوم رجب علی خوشی ریشماں بیگم کی جانب سے ہائی کورٹ آف تلنگانہ میں ایک رٹ پٹیشن (WP 20220/2021) بذریعہ مجیب احمد ایڈوکیٹ حیدرآباد داخل کی گئی تاکہ انصاف دلایا جا سکے،کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کی، امید کے خاطیوں کو سخت سزا ملے گی۔مسلمانان تلنگانہ بالخصوص بانسواڑہ و کاماریڈی کی جانب سے جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھرا کی موثر نمائندگی پر ستائش کرتے ہوئے اظہار تشکر کیا گیا ہے، جو ہمیشہ مظلوم قوم کی بروقت اور کامیاب نمائندگی کے لیے تیار رہتی ہے، بلکہ جو احباب بھی اس میں تعاون کر رہے ہیں ان کے حق میں ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ان کو جزائے خیر دے۔