تلنگانہ ‘ کورونا کے سب سے کم معائنے کروانے والی دوسری ریاست

,

   

دس لاکھ افراد میں صرف 2970 معائنے ۔ حکومت کا لا پرواہ رویہ بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا موجب

حیدرآباد ۔تلنگانہ میں کورونا مریضوں کی تعداد اب 25 ہزار کے قریب پہونچ رہی ہے اور 5 جولائی کو ایک دن میں مریضوں کی تعداد میں 1590 کا اضافہ ہوا ہے اور ہائیکورٹ کی جانب سے کورونا معائنوں میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے اس کے باوجود بھی ریاست میں انتہائی کم معائنے کئے جا رہے ہیں۔ ملک میں سب سے کم کورونا معائنے کرنے کے معاملے میں تلنگانہ کا نمبر دوسرا ہے ۔ تلنگانہ میں 10 لاکھ نفوس کیلئے 2970 معائنے ہی کئے جا رہے ہیں ۔ بہار ایسی ریاست ہے جہاں سب سے کم معائنے کئے جا رہے ہیں۔ یہاں دس لاکھ افراد کیلئے صرف 2101 معائنے کئے گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ انتہائی کم تعداد میں معائنوں پر تنقیدوں کے بعد معائنوں میں قدرے تیزی پیدا کی گئی تھی اور یہ تعداد بڑھائی جا رہی ہے ۔ تلنگانہ کے ایک میڈیکل ماہر ڈاکٹر وینکٹیشور ر او کا کہنا ہے کہ وسائل کے فقدان ‘ متاثرین کا پتہ چلانے میں ناکامی اور اس وباء کے ابتدائی ایام میں ریاستی حکومت کے لا پرواہ رویہ کی وجہ سے معائنوں کی تعداد پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہ مئی کے اختتام تک تلنگانہ حکومت نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے رہنما خطوط کی پابندی نہیں کی اور پازیٹیو مریضوں کے ربط میں آنے والوں اور علامات ظاہر نہ ہونے والے مریضوں کے معائنوں میں لا پرواہی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ 25 جون کو ریاستی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ دو دن کیلئے معائنے روکے جا رہے ہیں کیونکہ جو نمونے حاصل کئے گئے تھے ان کے معائنے باقی تھے ۔

اس سے قبل ریاست میں یومیہ 2500 تا 3000 معائنے کئے جا رہے تھے اور گذشتہ ایک ہفتے میں یومیہ 4000 تا 6000 معائنے کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر راو کا کہنا ہے کہ اگر ہم کو واقعی سنجیدہ ہونا ہے تو یومیہ 20,000 کورونا معائنے کروانے کی ضرورت ہے ۔ اعداد و شمار کے بموجب ریاست میںپازیٹیو آنے والوں کی شرح بھی بہت زیادہ ہے ۔ جو معائنے کئے جا رہے ہیں ان میں 20.1 فیصد پازیٹیو نتائج آ رہے ہیں۔ اس کا مطلب 1,10,545 معائنوں میں 22,312 افراد پازیٹیو قرار پائے ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کردہ ہیں۔ 4 جولائی کو 6,427 افراد کے معائنے کئے گئے تھے جن میں 1,850 افراد متاثر قرار پائے تھے ۔ یہ تناسب 28.7 کا تھا ۔ انتہائی کم تعداد میں معائنوں کے باوجود تلنگانہ میں گذشتہ 14 دنوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں 297 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم ریاست میں کورونا سے اموات کی شرح قومی شرح سے کم یعنی 1.29 فیصد ہے ۔ ڈاکٹر وینکٹیشور راو نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ابتداء میں خانگی لیابس کی خدمات سے استفادہ نہیں کیا اور نہ لاک ڈاون کے دوران زیادہ معائنے کئے گئے اسی لئے اب مریضوں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ ہو رہاہے ۔